Share this link via
Personality Websites!
مالِ دنیا دو جہاں میں ہے وبال کام آئے گا نہ پیشِ ذوالجلال
پیارے اسلامی بھائیو! ہم لوگ آدھی نَظر رکھنے والے لوگ ہیں، ہم چیزوں کو پُورا نہیں دیکھتے، کتنے ایسے لوگ ہیں جو شاہانہ زندگی کے خواب دیکھتے ہیں * کسی کی گاڑی *کسی کا بنگلا*ہزاروں روپے کے سُوٹ* لاکھوں کا موبائِل فُون* کروڑوں کا بینک بیلنس* شاہانہ پروٹوکول دیکھ کر ہم لوگ رَشک کرتے ہیں، اندر ہی اندر اپنے آپ کو کوستے ہیں، اپنی قسمت کو کوستے ہیں، دِل ہی دِل میں کہہ رہے ہوتے ہیں: کاش! مجھے بھی ایسی دولت ملی ہوتی، کاش! میرے پاس بھی ایسی گاڑی ہوتی، کاش! میں بھی محلّات میں رہتا...مگر افسوس! ہم آخری لمحات کو نہیں دیکھتے، دُنیا کے بڑے بڑے بادشاہ، جو ظالِم و جابِر تھے، غیر مسلم اور گنہگار تھے، ان کے آخری لمحات کیسے گزرے، ساری زندگی عیش و عشرت میں گزارنے کے بعد آخری وقت پر اپنی عیش و عشرت کا نچوڑ انہوں نے کیا نکالا، اس پر ہماری نظر نہیں ہوتی۔ اگر ہم اُن آخری لمحات پر نظر رکھنے والے بن جائیں تو ہماری آدھی سے زیادہ حسرتیں ویسے ہی ختم ہو جائیں گی۔
آپ دیکھیے! قارُون جس کو بےشُمار خزانے دئیے گئے تھے، اس کے خزانوں کی صِرْف چابیاں سینکڑوں اُونٹوں پر لادِی جاتی تھیں تو سوچئے خزانہ کتنا بڑا ہو گا، ایک مرتبہ اُس نے اپنا بہترین لباس پہنا، آگے پیچھے نوکَر چاکر، خزانے سے لدے اُونٹ، بڑے شاہانہ پروٹوکول کے ساتھ شہر میں نکلا، گلیوں سے گزر رہا تھا، جو کم ظرف تھے، آدھی آنکھ سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami