Share this link via
Personality Websites!
قوت و طاقت عطا فرمائی تھی جو تمہیں نہیں دی ۔
یعنی انہیں زمین میں وہ طاقت بخشی گئی تھی، جو ہمیں نہیں دِی گئی*آج ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے*ہمارے پاس سائنس ہے*ایک سے ایک مشینیں*ایک سے ایک آلات موجود ہیں مگر قرآنِ کریم فرما رہا ہے؛ اِن قوموں کے پاس اگرچہ ٹیکنالوجی نہیں تھی، اگرچہ سائنسی ایجادات نہیں تھیں مگر ان کو زمین پر وہ قبضہ دیا گیا تھا جو تمہیں نہیں دیا گیا، انہیں وہ فَن دئیے گئے تھے، جو تمہیں نہیں دئیے گئے، انہیں وہ اخْتیارات، وہ طاقتیں عطا کی گئیں، جو تمہیں نہیں دِی گئیں۔
آپ سوچئے! یہ کیسی قومیں ہوں گی، کیسی عیش و عشرت سے بھرپُور ان کی زندگی ہو گی*فِرْعَون کیسی شاہانہ زندگی گزارتا تھا *نمرود کیسا رُعْب و دبدبے والا بادشاہ تھا *شَدَّاد جسے وہ خزانہ دیا گیا، جس کا آج کوئی تصَوُّر بھی نہیں کر سکتا *قارُون جسے اتنا خزانہ دیا گیا، جو ہم خواب میں بھی نہیں دیکھتے ہوں گے۔مگر آہ...!! ان کے وہ آخری لمحات...!! کتنے دردناک لمحات تھے، کتنی بےبسی سے بھرے ہوئے وہ لمحات تھے، عذاب ان کی طرف بڑھ رہا تھا اور یہ اس سے بچنے کی کوششوں میں تھے، قریباً 51 کروڑ مربع کلو میٹر کی اس زمین پر ایک بالشت برابر جگہ بھی انہیں ایسی مُیَسَّر نہیں تھی، جہاں پناہ لے کر یہ عذاب سے بچ جاتے، ساری طاقتیں، سارے خزانے،سارے خُدّام ، سب محلّات، سب کچھ دھرے کا دھرا رِہ گیا، آج اِن کا نام و نشان تک یہاں موجُود نہیں ہے۔
تُو خُوشی کے پھول لے گا کب تلک تُو یہاں زندہ رہے گا کب تلک
دولتِ دنیا کے پیچھے تُو نہ جا آخِرت میں مال کا ہے کام کیا؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami