Share this link via
Personality Websites!
کیفیت کیا تھی؟ پارہ: 17، سورۂ انبیاء کی چند آیات سنیے! اللہ پاک نے فرمایا:
فَلَمَّاۤ اَحَسُّوْا بَاْسَنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا یَرْكُضُوْنَؕ(۱۲) (پارہ:17،سورۂ انبیا:12)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:تو جب انہوں نے ہمارا عذاب پایا تو اچانک وہ اس سے بھاگنے لگے ۔
یعنی جب اُنہوں نے محسوس کیا کہ اب بَس عذاب آ گیا، عذاب کے آثار دیکھ لیے تو ان کے وہی بڑے بڑے خوبصُورت مکان، ان کے محلّات، ان کے باغات، مال و دولت کے اَنْبار جن پر ناز کیا کرتے، اُن سے نکل کر بھاگنا شروع ہو گئے۔ تب انہیں پُکارا گیا:
لَا تَرْكُضُوْا (پارہ:17،سورۂ انبیا:13)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:بھاگو نہیں۔
یعنی کہاں جا رہے ہو...؟ کیوں بھاگتے ہو؟
وَ ارْجِعُوْۤا اِلٰى مَاۤ اُتْرِفْتُمْ فِیْهِ وَ مَسٰكِنِكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْــٴَـلُوْنَ(۱۳) (پارہ:17،سورۂ انبیا:13)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:اور ان آسائشوں کی طرف لوٹ آؤ جو تمہیں دی گئی تھیں اور اپنے مکانوں کی طرف (لوٹ آؤ) شاید تم سے سوال کیا جائے ۔
واپس آؤ! تمہارے گھر، تمہارا مال و دولت، تمہارے باغات، تمہارے بڑے بڑے محلّات، تمہاری فوجیں، تمہاری طاقتیں سب کچھ یہاں ہے، اب کہاں بھاگتے ہو...؟ واپس آؤ! اب تم سے پُوچھا جائے گا ۔
آہ! وہ سرکش، وہ بدتمیز، وہ گستاخ، جو انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کے ساتھ بدتمیزیاں کرتے تھے، اَہْلِ اِیْمان کا مذاق اُڑایا کرتے تھے، اپنی طاقت، اپنی دولت اور اپنی شہرت پر ناز کیا کرتے تھے، آج اُنہی محلّات سے بھاگتے ہوئے پُکارنے لگے:
یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۱۴) (پارہ:17،سورۂ انبیا:14)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:ہائے ہماری بربادی! بیشک ہم
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami