Share this link via
Personality Websites!
ایسےحیا کرو! جیسے اپنے خاندان میں بارُعب شخص سے حیا کرتے ہو۔([1])
ایسا ہوتا ہے نا کہ بندہ غلط کام کر رہا ہو، اُوپَر سے والِد صاحِب آجائیں، مسجد کے امام صاحِب تشریف لے آئیں، بندہ فورًا خُود کو چھپاتا ہے، غلط کام جلدی سے چھوڑ دیتا ہے، مثلاً: موبائِل پر کوئی گندی چیز دیکھ رہے تھے، اُوپَر سے اَبُّو جان آ گئے، نوجوان جلدی سے موبائِل بند کرتے ہیں، اسے اِدھر اُدھر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، یہ ان کی حیا ہے، فرمایا: جتنی ان لوگوں سے حیا کرتے ہو، کم از کم اتنی ہی حیا اللہ پاک سے بھی کیا کرو...!!
کاش! یہ اچھی حیا ہمیں نصیب ہو جائے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!دُنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی سنور جائے گی۔
اللہ پاک ہمیں پُوری زندگی بالخصوص زندگی کے آخری لمحات اچھے، بہترین اور نیکیوں بھرے گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
پیارے اسلامی بھائیو! اپنی دُنیا اور آخرت سنوارنے، نیک نمازی بننے اور اللہ پاک کے فضل و کرم سے قابِلِ رشک موت پانے کے عَزْم کے ساتھ عاشقانِ رسول کی دینی تنظیم دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ ہو جائیے! اَلحمدُ للہ! دعوتِ اسلامی والے عاشقانِ رسول کے سینکڑوں واقعات ہیں کہ انہیں قابِلِ رشک موت نصیب ہوئی *کئی عاشقانِ رسول کی قبریں سالہا سال کے بعد کھلیں تو وہاں خوشبوئیں مہک رہی تھیں *ایک قارِی صاحب حالتِ سجدہ میں دُنیا سے رخصت ہوئے *کتنے ایسے ہیں جنہیں آخری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami