Share this link via
Personality Websites!
یہ بھی بڑی پیاری نصیحت ہے، مثال کے طور پر *بندہ جھوٹ بول رہا ہو، کیا وہ چاہے گا کہ سامنے والے کو اس کے جُھوٹ کا پتا چل جائے؟ نہیں چاہے گا، ورنہ اسے شرمندگی ہو گی *بندہ بدکاری میں مبتلا ہو، کیا چاہے گا کہ اسے کوئی دیکھ لے *سُودی کاروبار کرتا ہو، کیا چاہے گا کہ لوگوں کو پتا چل جائے *بندہ حرام کاموں میں مَصْرُوف ہو، کیا چاہے گا کہ کوئی اسے دیکھ لے؟ نہیں چاہے گا، ورنہ اسے شرمندگی ہو گی، نیک نامی پر دَھبّہ لگے گا، لوگوں کے سامنے وہ بندہ رُسْوا ہو جائے گا۔یہ ایک طرح سے بندوں کی حیا ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے بُرائیاں نہیں کرتے، بس یہی تصَوُّر باندھنا ہے کہ کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، اللہ پاک تو دیکھ ہی رہا ہے، لہٰذا اِس سے حیا کرنی ہے اور اس کے سامنے اس کی نافرمانی نہیں کرنی۔ اعلیٰ حضرت رحمۃُ اللہ علیہ نے کہا ہے نا:
چُھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گُنَاہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
کام زِنداں کے کیے اور ہمیں شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے([1])
جب ہم لوگوں کی نافرمانی نہیں کر رہے، پِھر بھی لوگوں سے شرماتے ہیں تو جس کی نافرمانی کرتے ہیں، اس سے کیوں نہیں شرماتے، وہ تو ہر چھپے اور ظاہِر کو جاننے والا ہے، دِلوں کے حالات سے بھی واقف ہے، اس لیے چاہیے کہ اس رَبّ کریم سے شرمایا کریں۔
اس حوالے سے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی ایک بہت پیاری نصیحت سنیے! فرمایا: وَاسْتَحِ الله اِسْتِحْيَاءَ رَجُلٍ ذِيْ هَيْبَةٍ مِنْ اَهْلِكِ یعنی اللہ پاک سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami