Share this link via
Personality Websites!
یہ بھی بڑا کمال نسخہ ہے، ہمیں چاہیے کہ وقتاً فوقتًا موت کو یاد کرتے رہا کریں *حدیث شریف میں ہے:جسے موت کی یاد بےچین رکھے، وہ اپنی قبر کو جنّت کا باغ پائے گا۔([1])*حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ حضور نبیِ پاک، صاحِبِ لَوْلَاک صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرماىا:موت کو کثرت سے ىاد کىا کرو کىونکہ وہ گناہوں کو زائل(Erase) کرتى اور دنىا سے بے رغبتى پىدا کرتى ہے۔([2]) *حضرت دَقَّاق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے وہ 3 باتوں کے ذریعے عزت (Respect) پاتا ہے (1):اُسے توبہ کى جلد توفىق ملتی ہے (2):اُسے قناعت(Contentment) کی دولت مل جاتی ہے اور (3):عبادت میں چُستی نصیب ہوتی ہے۔ مزید فرمایا:اور جس نے موت کو بھلا دىا، وہ 3 باتوں میں گرفتار کیا جائے گا: (1):توبہ کى تاخیر (2):بقدرِ ضرورت رزق پر راضی نہ ہونا اور (3):عبادت میں سُستى([3])
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم موت کو یاد رکھا کریں، وقتاً فوقتاً قبرستان جایا کریں، وہاں قبروں کے حالات پر غور کریں، یہ سوچیں کہ ایک دِن میں نے بھی اسی قبر میں اترنا ہے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!آہستہ آہستہ موت کی یاد دِل میں بیٹھ جائے گی، یہ سعادت مل گئی تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!ہمارا کردار سنور جائے گا۔
تیسرا نسخہ: پیارے آقا، رسولِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے جنّتی بننے کا تیسرا نسخہ دیا، فرمایا: اللہ پاک سے ایسی حیا کرو! جیسی حیا کا حق ہے۔([4])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami