Share this link via
Personality Websites!
فرمایا: (پِھر یہ اَوْصاف اپنا لو!)
قَصِّرُوا الْاَمَلَ وَا ثْبِتُوْا آجَالَكُمْ بَيْنَ اَبْصَارِكُمْ وَاسْتَحْيُوْا مِنَ الله حَقَّ حَيَائِهٖ
(1):اپنی اُمِّیدیں کم کرو! (یعنی زیادہ لمبی لمبی پلاننگ نہ کیا کرو!) (2):اپنی موت کو آنکھوں کے سامنے رکھا کرو! (3):اور اللہ پاک سے ایسی حیا کرتے رہو، جیسی حیا کا حق ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! نیک بننے، آخرت کی تیاری کرنے، موت کے بعد کی زندگی اچھی کرنے، جنّت کا حقدار بننے کے یہ 3 نسخے ہیں:
پہلا نسخہ:اپنی اُمِّیدیں کم کر لو...!! یعنی زیادہ لمبی پلاننگ نہ کریں، کل کیا ہو گا، پرسوں کیا ہو گا، بڑھاپا کیسے گزرے گا، بچوں کا کیا بنے گا، وغیرہ وغیرہ یہ فِکْرَیں چھوڑ دیجئے! اِن فِکْروں سے کچھ نہیں ہونے والا، ہونا وہی ہے جو اللہ پاک چاہے گا۔ اِس لیے اپنے آج کو اچھا کر لیجئے! حضرت عون بن عبد اللہ رحمۃُ اللہ علیہ کی خِدْمت میں سُوال ہوا: بندۂ مؤمن کا سب سے فائدہ مند دِن کون سا ہے؟ فرمایا: جس دِن بندہ اللہ پاک کے حُضُور حاضِر ہو گا اور جان لے گا کہ اللہ پاک اس سے راضی ہے۔ عرض کی گئی: دُنیا کے دِنوں میں سب سے فائدہ مند دِن کونسا ہے؟ فرمایا: سب سے فائدے مند دِن وہ ہے جس کی شام تک زندہ رہنے کی بندہ اُمِّید نہ رکھے۔([2])
دوسرا نسخہ: محبوبِ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے جنّتی بننے کا دوسرا نسخہ دِیا، فرمایا: اپنی موت کو ہمیشہ اپنی آنکھوں کے سامنے رکھا کرو! ([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami