Share this link via
Personality Websites!
انسان کی موت اسی حالت پر آتی ہے، جس پر زِندگی گزارتا ہے اور روزِ قیامت اسی حال میں اُٹھایا جائے گا جس پر موت آئی ہو گی۔([1])
اللہ پاک جس سے بھلائی کا ارادہ فرما لے
حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ الله اِذَا اَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا اِسْتَعمَلَهُ
ترجمہ: اللہ پاک جب اپنے بندے کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے تو اسے کام پر لگا دیتا ہے
پوچھا گیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! اسے کیسے کام پر لگاتا ہے؟ فرمایا:
يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالحٍ قَبْلَ الْمَوْتِ
اس کو موت سے پہلے نیک کاموں کی توفیق عطا فرما دیتا ہے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ایک مرتبہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام علیہم الرّضوان سے فرمایا:
اَكُلُّكُمْ يُحِبُّ اَنْ يَّدْخُلَ الْجَنَّةَ؟
کیا تم سب جنّت میں جانا چاہتے ہو؟
عرض کیا: جی ہاں! یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم! ہم جنّت میں جانا چاہتےہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami