Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو!حدیثِ پاک کی روشنی میں دونوں رستے ہمارے سامنے ہیں، اب فیصلہ ہمارا ہے: ہم اپنے آخری لمحات کس طرح گزارنا چاہتے ہیں؟
ایک مرتبہ حضرت مالِک بن دِینار رحمۃُ اللہ علیہ ایک نوجوان کے قریب سے گزرے، وہ گُنَاہوں میں مُبتَلا تھا، آپ نے اسے نیکی کی دعوت دی اور فرمایا: اے شخص! اللہ پاک سے ڈر! گُنَاہ نہ کر۔
اس نے بڑا گرج کر کہا: اے مالِک! چھوڑئیے بَس! زِندگی عیش سے گزارنے دیجیے! آپ نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا، جب اس شخص کا آخری وقت آیا تو لوگوں نے اسے کلمہ طیبہ پڑھنے کی تلقین کی، وہ بولا: میرے سر کے پاس ایک فرشتہ کھڑا کہہ رہا ہے: تُو زندگی کے مزے لوٹتا تھا، اب ہم تجھے پِیس ڈالیں گے۔ ([1])
اللہ اکبر! ہمارے ہاں یہ ماحول ہے نا کہ جب کسی کو نصیحت کریں، نیکی کی دعوت دیں تو بعض دفعہ جواب ملتا ہے: چھوڑئیے! مولوی صاحب...!! چار دِن کی زندگی ہے، مزے کر لینے دیجیے!
آخری لمحات کی تیاری ابھی سے کیجیے !
پیارے اسلامی بھائیو! یہ مزے لینے کا وقت نہیں ہے، عیش اُڑانے کا وقت نہیں ہے، یہ چار دِن کی زندگی ہی فیصلہ کرے گی کہ ہمارا آخری لمحہ کیسا گزرے گا، پِھر آخری لمحہ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ ہم آخرت میں کیسے اُٹھیں گے۔ امام غزالی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami