Share this link via
Personality Websites!
کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ رُوْح اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر کر دی جاتی ہے۔ ([1])
اللہ پاک کے پیارے نبی، رَسُولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے بیان کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے مزید فرمایا: اور اگر آدمی بُرا ہو تَو فرشتے کہتے ہیں: اے خبیث رُوْح جو خبیث جسم میں رَہِی، نکل! نکل...! تُو مَذَمَّت و ملامت کی حق دار ہے، تیرے لیے کھولتے پانی، پیپ اور اس جیسے دیگر عذابوں کی بِشَارت ہے۔ فرشتے یہی کہتے رہتے ہیں، یہاں تک رُوْح جسم سے جُدا ہو جاتی ہے، پھر اسے آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے، آسمان کے دروازوں پر دستک دی جاتی ہے، آسمان والےپوچھتے ہیں: یہ کون ہے؟ فرشتے کہتے ہیں: فُلاں ہے تو اس پر آسمان کے فرشتے کہتے ہیں: اس کے لیے مَرْحَبَا نہیں ہے، یہ خبیث رُوح ہے جو خبیث جسم میں رہی، لوٹ جا ملامت کی ہوئی ہو کر، اس کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ پھر اسے آسمان سے پھینکا جاتا ہے یہاں تک کہ قبر (یعنی مقامِ سِجِّین جو ساتوں زمینوں کے نیچے ہے وہاں) پہنچ جاتی ہے۔ ([2])
یہ ہیں 2 صُورتیں: ایک آخری لمحات کی اچھی تَصْوِیر ہے، جب نَزع کا وقت طاری ہوتا ہے، فرشتے خوشخبریاں لے کر پہنچتے ہیں، آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے، وہ اپنی آخرت کے انعامات دیکھ کر خُوش ہو جاتا ہے اور خُوشی خُوشی اس دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، اور اگر آدمی بُرا ہو، گنہگار ہو، تو اس کے آخری لمحات انتہائی سخت ہوتے ہیں، فرشتے عذابات دکھاتے ہیں، بہت زور سے کھینچ کر رُوح نکالتے ہیں، نزع کی سختیاں طاری ہوتی ہیں اور آدمی حسرت و غم میں ڈُوبا ہوا، آخرت کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami