Share this link via
Personality Websites!
دیکھیے! بَس 2 ہی صُورتیں ہیں، ان میں سے ایک کو ہم نے اپنے لئے سلیکٹ کرنا ہے، فیصلہ ہمارا ہے، مَنْظَر دونوں میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں:
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، سرکارِ عالی وقار، مکے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: نَزع کے وقت آدمی کے پاس فرشتے آتے ہیں، اگر وہ شخص نیک ہو تو فرشتے کہتے ہیں: اےپاک رُوح! نکل...!! تو پاک جسم میں رَہِی، اَبْ قابِلِ تعریف ہو کر نکل، تیرے لیے راحت ومَسَرَّت اور پاکیزہ رِزْق کی خوشخبری ہے اور یہ بھی کہ تیرا رَبّ تجھ سے ناراض نہیں ہے۔ فرشتے اسی طرح کہتے رہتے ہیں یہاں تک کہ رُوح جِسْم سے جُدا ہو جاتی ہے۔ ([1])(سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوم ہوا مؤمن نیکوکار کی رُوح کو کھینچ کر نکالنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ بشارتیں سُن کر خود بخود جسم سے نکل آتی ہے۔([2]))
سرکارِ عالی وقار، دو عالم کے مالِک ومختار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے مزید فرمایا: پھر اس نیک بندے کی رُوح کو آسمان کی طرف لے جایا جاتا ہے، اُس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں: یہ کون ہے؟ رُوْح لے جانے والے فرشتے بتاتے ہیں:یہ فلاں ہے۔ آسمان والے فرشتے کہتے ہیں:مَرْحَبَا! پاک رُوْح جو پاک جسم میں رہی، آ جا...! تُو قابِلِ تعریف ہے، تیرے لیے راحت ومَسَرَّت اور پاک رِزْق کی خوشخبری ہے اور یہ کہ تیرا رَبّ تجھ سے ناراض نہیں ہے، ہر آسمان کے فرشتے یُوں ہی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami