Share this link via
Personality Websites!
لمحات میں ہو گا۔ حدیثِ پاک میں ارشاد ہوا: اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالْخَوَاتِیْمِ اعمال کا دار و مدار خاتمے پر ہے۔([1])
میں اور آپ اپنی زندگی کا آخری لمحہ اس دُنیا میں کیسے گزارتے ہیں، وہ لمحہ فیصلہ کرے گا کہ ہم کامیاب ہو گئے یا ناکام رہ گئے۔ مگر افسوس! ہم جانتے نہیں ہیں کہ ہمارا وہ آخری لمحہ کب آئے گا، کب ہم اس دُنیا سے رُخصت ہوں گے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی پُوری زندگی ہی نیک اعمال کرتے ہوئے گزارا کریں۔
پارہ:3، سورۂ بقرہ، آیت:281 میں اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِۗ- (پارہ:3 ،سورۂ بقرہ:281)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفان:اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے ۔
ایک قول کے مُطَابق اس آیتِ کریمہ کا معنیٰ ہے: اے ایمان والو! ڈرو اُس دِن سے جب تم اس دُنیا کو چھوڑ کر سَفَرِ آخرت پر روانہ ہو جاؤ گے۔([2])
ہے یہاں سے تجھ کو جانا ایک دن قبر میں ہو گا ٹھکانا ایک دن
منہ خدا کو ہے دِکھانا ایک دن اب نہ غفلت میں گنوانا ایک دن
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں چاہیے کہ اپنے اُن آخری لمحات کو ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھا کریں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami