Share this link via
Personality Websites!
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! واقعی کتنا عبرتناک جملہ ہے، کیسی پیاری نصیحت ہے، ہم 2 سَفَر طَے کرتے ہیں، ایک سَفَر تَو ابھی ہمارا جارِی ہے، ہم دُنیا میں ہیں، زندگی کی سانسیں پُوری کر رہے ہیں، عنقریب ہمارا یہ سَفَر تمام ہو جائے گا، پِھر ایک اور سَفَر شروع ہو گا: آخرت کا سَفَر۔ امامِ حَسَن بصری رحمۃُ اللہ علیہ بتا رہے ہیں: لوگو...!! دیکھو! وہ سَفَر جو تمہاری پیدائش سے شروع ہوا تھا، دُنیا دیکھنے کا سَفَر، دُنیا میں رہنے کا سَفَر، یہاں گھر بنانے، عیش اُڑانے کا سَفَر، آہ! اس سَفَر کی انتہا کتنی عبرتناک ہے، آہ! وہ آخری لمحات جب ڈینگیں مارنے والا انسان، خُود پر اِترانے والا انسان، اپنی صلاحیتوں کے جوہَر دکھانے والا انسان اپنی بےبسی کی انتہا پر ہوتا ہے۔ آہ! لوگو...!! دیکھو! یہ تمہارے عیش و عشرت کی انتہا ہے، یہ تمہاری زِندگی کے سَفَر کی انتہا ہے اور آہ! کتنی دردناک انتہا ہے۔
پِھر غور کیجیے ! یہ نزع کا وقت ہے، اس سے سَفَرِ آخرت کی ابتدا ہو رہی ہے، آہ! جس سَفَر کی ابتدا اِتنی دردناک ہے، آہ! رُوح نکلنے کا ایک جھٹکا تَلْوار کی ہزار ضربَوں سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے([1]) رُوح بدن سے نکلنا ایسے ہے، جیسے کانٹے دار جھاڑی رُوئی کے ڈھیر میں ڈال کر باہَر کھینچ لی جائے([2]) اللہ! اللہ! غور کیجیے ! جس سَفَر کی ابتدا ہی اتنی دَرْدناک ہے، اس سَفَر کی آخری منزل یعنی حشر کا میدان، پِھر پُل صراط سے گزر کتنا دردناک ہو گا۔
ہم چاہے ہزاروں سال کی زندگی گزار لیں، ہماری پُوری زندگی کا نچوڑ ہمارے آخری
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami