Share this link via
Personality Websites!
کوئی بُرائی نہیں ہے، غریب ہونا تو ویسے ہی فضیلت کی بات ہے، حدیثوں میں غریبوں کے فضائل بیان ہوئے ہیں۔ بات آخری لمحاتکی ہے*آہ! وہ وقت جب یہ پُوری دُنیا اپنی تمام تَر خُوبصُورتیوں کے ساتھ ہمارے لیے ایک کھوٹے سِکّے کے برابر بھی نہیں رہے گی *جب ہماری آنکھوں سے ہماری بےبسی ٹپک رہی ہو گی *گاڑی گیراج میں کھڑی ہے مگر ہمارے کسی کام کی نہیں رہے گی *بینک میں لاکھوں روپیہ رکھا ہے، مگر ہمارے کسی کام کا نہیں رہا *بیٹے بیٹیاں اردگرد موجود ہیں، رشتے دار جمع ہیں *ڈاکٹر اپنی تمام تَر کوششوں میں مَصْرُوف ہیں مگر افسوس! اب کوئی کچھ نہیں کر سکتا *اس لمحے ہمارے عزیز، ہمارے ناز اُٹھانے والے بھی کہہ رہے ہوتے ہیں: سُورۂ یٰسین شریف پڑھو! جان آسانی سے نکل جائے گی۔
*آہ! ملک الموت علیہِ السَّلام تشریف لا چکے ہیں *آنکھیں چھت پر لگی ہیں *جان گلے میں اٹکی ہے *پِھر ایک ہی جھٹکا لگا، آخری ہچکی آئی *ایک گہری سانس کھینچی اور یہ پُوری دُنیا،قریباً 51 کروڑ مربع کلو میٹرکی یہ زمین اپنی ساری وسعتوں کے ساتھ ہم پر تنگ ہو گئی۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ آخری لمحہ ہمارا کیسے کٹے گا؟ احساسات کیا ہوں گے؟ جذبات کیا ہوں گے؟ اس وقت ہمارے دِل میں حسرتیں کیا ہوں گی؟ ان پر غورکرنا چاہیے ۔
ابتدا اَیسی ہے تو انتہا کیا ہو گی
ایک مرتبہ امامِ حَسَن بصری رحمۃُ اللہ علیہ ایک مریض کے پاس تشریف لائے، اس وقت اس پر نزع کی کیفیت طاری تھی، امامِ حَسَن بصری رحمۃُ اللہ علیہ نے حالت دیکھ کر فرمایا: جس معاملے کی ابتدا اَیسی ہو، اس کی انتہا سے ڈرنا چاہیے اور جس کی انتہا ایسی ہو، اس کی ابتدا سے کنارہ کشی اِخْتیار کرنی چاہیے۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami