Share this link via
Personality Websites!
اِن دُنیا میں ڈُوبے ہوؤں کی زندگی کیسی گزری، یہ ان کے تجربات تھے، ان کے تجربات کا نتیجہ کیا نکلا؟ اس نتیجے کو حاصِل کریں۔ پتا چلے گا کہ یہ دُنیا بےوفا ہے۔
دُنیا کی مثال پھٹے ہوئے کپڑے جیسی ہے
آخری نبی،رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مَثَلُ هٰذِهِ الدُّنْيَا مَثَلُ ثَوْبٍ شُقَّ مِنْ اَوَّلِهِ اِلٰى آخِرِهِ یعنی اس دُنیا کی مثال ایک کپڑے جیسی ہے اور کپڑا بھی وہ کہ جو شروع سے آخر تک کٹا ہوا ہے فَبَقِيَ مُتَعَلِّقًا بِخَيْطٍ فِي آخِرِهٖ فَيُوْشِكُ ذٰلِكَ الْخَيْطُ اَنْ يَنْقَطِعَ بس آخر سے ایک دھاگے کے ساتھ اٹکا ہوا ہے، قریب ہے کہ یہ دھاگا بھی ٹوٹ جائے۔([1])
اللہ اکبر! کیسی زبردست مثال ہے، یہ دُنیا ایک دھاگے پر کھڑی ہے، ایک ہلکا سا جھونکا اس دھاگے کو توڑ دے گا اور ہم قبر کی اندھیریوں میں پہنچ جائیں گے۔ کسی شاعِر نے بڑی خوبصُورت عکّاسی کی، کہا:
اِک یہ جہاں، اِک وہ جہاں، دونوں جہاں کے درمیاں
ہے فاصلہ اک سانس کا، گر آگئی تو یہ جہاں، گر رُک گئی تو وہ جہاں
یہ صِرْف ایک ڈوری ہی تو ہے، مختصر سِی ڈوری، کمزور سی ڈوری...!! چند منٹ آکسیجن نہ ملے تو سانس رُکنے لگتی ہے، اٹک جاتی ہے، دَمْ گھٹ جاتا ہے، بس یہ ڈوری ٹوٹنے کی دَیْر ہے، بندہ دُنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ دُنیا کی یہی حقیقت ہے۔
اپنے آخری لمحات سنوار لیجیے...!!
پیارے اسلامی بھائیو! بات مالدار یا غریب ہونے کی نہیں ہے، مالدار ہونے میں بھی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami