Share this link via
Personality Websites!
*خلیفہ مُعْتَصِم بہت ظالِم اور سخت دِل بادشاہ تھا، جب اس کا آخری وقت آیا تو یہ اپنے بستر پر لیٹا تڑپتا تھا اور بار بار کہتا تھا: لَوْ عَلِمْتُ اَنَّ عُمْرِیْ ھٰکَذَا قَصِیْرٌ مَا فَعَلْتُ یعنی اگر مجھے معلوم ہوتا کہ میری عمر اتنی کم ہے تو میں بادشاہی نہ کرتا۔ ([1])
بے وفا دنیا پہ مت کر اِعتبار تُو اچانک موت کا ہوگا شکار
موت آکر ہی رہے گی یاد رکھ! جان جا کر ہی رہے گی یاد رکھ!
موت آئی پہلواں بھی چل دیئے خوبصورت نوجواں بھی چل دیئے
تیری طاقت تیرا فن عُہدہ تِرا کچھ نہ کام آئے گا سرمایہ ترا
گھپ اندھیری قبر میں جب جائے گا بے عمل! بے انتِہا گھبرائے گا
قبر میں تیرا کفن پھٹ جائے گا یاد رکھ نازُک بدن پھٹ جائے گا
کر لے توبہ ربّ کی رحمت ہے بڑی قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ نتیجہ ہے...!! دُنیا کے طلب گاروں نے دُنیا حاصِل کی، اس میں جئے، عیش اُڑائی، آخری وقت پِھر نتیجہ کیا نکالا: کاش! ہم یہ نہ کرتے، کاش! ہمیں دنیا نہ ملتی، کاش! ہم حبشی غُلام ہوتے، بکریاں چرایا کرتے۔
یہ نتیجہ ہے، حاصِل نتیجہ کیا جاتا ہے، ہم بازار جاتے ہیں تو کیا خریدتے ہیں: کسی کی محنت کا نتیجہ خریدتے ہیں۔ مٹھائی کی دُکان پر گئے، مٹھائی لے آئے۔ ایسا تھوڑی ہوتا ہے کہ بازار سے میدہ، گھی، شکر وغیرہ خرید لائے، اب مٹھائی بنائیں گے، کسی نے محنت کی، مٹھائی بنا دی، اب ہم اس کی محنت کا جو نتیجہ مٹھائی کی صُورت میں ظاہِر ہوا، ہم وہ خرید لیتے ہیں۔ تَو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami