Share this link via
Personality Websites!
اس خوف اور ڈر کے سبب وہ گُنَاہ بخش دیا جاتا ہے) اور اگر بندہ گُنَاہ کرے، پِھر اسے مَعْمُوْلی خیال کر لے تو وہ گُنَاہ بہت بڑا ہے کیونکہ اس پر نہ اسے شرمندگی ہو گی، نہ وہ اسے چھوڑے گا، نہ اس کی معافی کا سامان ہو سکے گا۔([1])
(2): خُود کو بُھولنا ؛ یعنی دوسروں کو سمجھانا، خُود کو بھولنا
پیارے اسلامی بھائیو! خُود کو بُھول جانے کی ایک اَور صُورت بھی ہے، اللہ پاک نے فرمایا:
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ (پارہ:1، سوۂ بقرہ:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اوراپنے آپ کو بھولتے ہو۔
پتا چلا؛ دوسروں کو نیکی کا حکم دینا مگر خُود بُرائیوں میں پھنسے رہنا، یہ بھی خُود کو بُھول جانا ہے۔
اب یہ صُوْرتِحال بھی مُعَاشرے میں دیکھ لیجیے! *اپنے اِرْد گرد نظر دوڑا لیجیے! آج کے زمانے میں آپ کو نصیحت کرنے والے زیادہ اور نصیحت لینے والے کم ملیں گے *نصیحت کرنے والوں کا تَو یہ عالَم ہے کہ چِٹّا اَنْ پڑھ بندہ، جسے اَلِفْ سے باء کا بھی پتا نہیں ہے، وہ بھی مُعَاشرے پر تبصرے جھاڑ رہا ہوتا ہے *یہ جملہ تَو آپ نے ہر دوسرے یا تیسرے شخص سے سُنا ہی ہو گا: بَس جِی! لوگ بہت خراب ہو گئے ہیں، بھلائی کا تَو زمانہ ہی نہیں رہا * کئی ایسے ملتے ہیں جو دن بھر میں الفاظ کم اور گالیاں زیادہ نکالتے ہیں، وہ بھی آپ کو چند منٹ کے اندر اندر بیسیوں نصیحتیں کر دیں گے*افسوس! ہم ایک چھوٹے سے شہر کے چھوٹے سے محلے کی چھوٹی سی گلی میں رہنے والے گلی کی نکر پر بیٹھے حکومتوں کو مشورے دے رہے ہوتے ہیں، ان کو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami