Share this link via
Personality Websites!
جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔
یعنی یہ بہت بڑا ظالِم ہے جو اپنے گُنَاہوں کو بُھول جاتا ہے۔
گُنَاہ کو کم سمجھنا مُنَافِقْ کی نشانی
حدیث شریف میں ہے:
اِنَّ الْمُؤْمِنَ یَرٰی ذُنُوْبَہٗ کَاَنَّہٗ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ یَخَافُ اَنْ یَّقَعَ عَلَیْہِ
یعنی مومن اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے وہ کسی پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں وہ پہاڑ اس پر گِر نہ جائے۔
وَاِنَّ الْفَاجِرَ یَرٰی ذُنُوْبَہٗ کَذُبَابٍ مَرَّعَلٰی اَنْفِہٖ
جبکہ مُنَافِقْ اپنے گناہ کو ایسا دیکھتا ہے، گویا ایک مکھی ہے جو اس کی ناک پر سے گزر گئی۔([1])
اللہ! اللہ! مَعْلُوْم ہوا کہ گناہ کو مَعْمُوْلی سمجھنا مُنَافِقْ کی نشانی ہے ۔آہ! آج ہمارے ہاں تو یہ مَعْمُوْل کی بات ہو گئی ہے *لوگ گناہ کرتے ہیں *نمازیں قضا ہوتی ہیں *مسجدیں ویران ہیں *بازاروں میں جُھوٹ، دھوکہ، دغا بازی عام ہے *گھر گھر گویا سینمے بنے ہوئے ہیں *فلمیں، ڈرامے، موسیقی وغیرہ گھر گھر چل رہی ہے، اس کے باوجود ان گناہوں کا ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
علمائے کرام فرماتے ہیں:بندے سے جب گُنَاہ ہو اور وہ اسے مَعْمُوْلی نہ سمجھے، بہت بڑا گُنَاہ خیال کرے اور اللہ پاک سے ڈر جائے تو ایسا گُنَاہ رَبّ کے حُضُور چھوٹا ہے (یعنی اس کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami