Share this link via
Personality Websites!
ہے۔ یہ بھی خُود کو بُھول جانا ہی ہے۔
(1): خُود کو بُھولنا؛ یعنی گُنَاہ بُھول جانا
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے: اس سے بڑھ کر ظالِم اور کون ہو گا...؟ جو
نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُؕ- (پارہ:15، سورۂ کہف:57)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ان اعمال کو بھول جائے جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجے ہیں۔
یعنی بہت بڑا ظالِم ہے وہ شخص جو اپنے لیے آخرت میں گُنَاہوں کا ذخیرہ کر رہا ہے مگر اسے احساس تَک نہیں ہے کہ میں آگے کیا بھیج رہا ہوں۔([1])
دیکھیے! *ہمارے ہاں کتنے ہیں جو جھوٹ بولتے ہیں اور یقین مانیے! عین جُھوٹ بولتے وقت بھی انہیں مَعْلُوْم نہیں ہوتا کہ میں جُھوٹ بول چکا ہوں *غیبت کرتے ہیں مگر احساس تک نہیں ہوتا کہ میں غیبت کر رہا ہوں *بلکہ اب تَو حالات ایسے ہیں کہ لوگ کُفْرِیہ جملے تک بول دیتے ہیں مگر مَعْلُومَات کی اتنی کمی ہے، انہیں مَعْلُوْم ہی نہیں ہوتا کہ میں نے ابھی جو جملہ بولا ہے، یہ کُفْرِیہ تھا اور میں ایک جملے میں اپنے اِیْمان کا سودا کر چکا ہوں۔ یونہی مزید غور کیجیے! *کتنے ایسے ہیں جو نمازیں قضا کرتے ہیں مگر ان کو گُنَاہ کا احساس تک نہیں ہوتا *ماہِ رمضان کا پُورا مہینا روزے نہیں رکھتے مگر مَجَال ہے کہ اُن کے چہرے پر کوئی شرمندگی نظر آجائے *گالیاں بکتے ہیں اور قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں۔ یہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُؕ- (پارہ:15، سورۂ کہف:57)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: ان اعمال کو بھول جائے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami