Share this link via
Personality Websites!
دروازے کھول دئیے۔
اللہ اکبر! اُنہوں نے نمازیں چھوڑیں، اللہ پاک کا ذِکْر چھوڑا، نیک اعمال چھوڑے، ماں باپ کی فرمانبرداری چھوڑی، انبیائے کرام علیہمُ السَّلام کی اطاعت چھوڑی، نتیجے میں ہر چیز کے دروازے اُن پر کھول دئیے گئے *آسمان سے اُن پر بارشیں برسیں * زمین نے اُن کے لیے سونا اُگایا *رِزْق کی اُن کے پاس فَراوَانی ہو گئی *وہ اُوپَر نیچے سے مال و دولت میں گِھر گئے، مال ہی مال، دُنیا ہی دُنیا اُن کے پاس جمع ہو گئی۔([1])
حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا (پارہ:7، سورۂ انعام:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: یہاں تک کہ جب وہ اس پرخوش ہوگئے جو انہیں دی گئی۔
افسوس! *اب وہ نعمتوں میں کھو گئے، نعمتیں دینے والے کو بالکل بُھول گئے *اب وہ اپنی موت کو بُھول گئے، دُنیا میں کھو گئے *خُود کو بُھول گئے، غفلت میں سر تا پا غرق ہو گئے۔ پِھر
اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴) (پارہ:7، سورۂ انعام:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیا پس اب وہ مایوس ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! لوگوں نے اللہ پاک کو، اللہ پاک کے دِین کو، نیک اعمال کو بُھلایا تو سب سے پہلے اُن کو کیا سزا دی گئی؟ انہیں غفلت میں ڈال دیا گیا اور وہ خُود کو بُھول گئے۔ جب وہ پُوری طرح اپنے آپ سے بیگانے ہو گئے تو اسی غفلت میں اُن پر عذاب کا کَوْڑا بَرسا اور وہ ہلاک و بَرباد ہو گئے۔
پتا چلا؛ خُود کو بُھول جانا عذابِ اِلٰہی کا دروازہ ہے۔ پہلے بندہ اللہ پاک کو بُھولتا ہے، اس کی سزا میں خُود کو بُھولتا ہے، پِھر عذاب کا مُسْتَحِقْ ہو جاتا ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami