Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک فرمائے گا:
كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَاۚ-وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى(۱۲۶) (پارہ:16، سورۂ طہ:126)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اسی طرح ہماری آیتیں تیرے پاس آئی تھیں تو تُو نے انہیں بُھلا دیا اور آج اسی طرح تجھے چھوڑ دیا جائے گا۔
اللہ اکبر! پتا چلا؛ جب بندا اللہ پاک کو، اللہ پاک کے ذِکْر کو بُھول جاتا ہے تو اُسے اُس کی اپنی ہی ذات بُھلا دی جاتی ہے، جب اُس کی اپنی ہی ذات بُھلا دی جائے تو نتیجے بھیانک ہو جاتے ہیں۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خُود کو بُھول جانا عذابِ اِلٰہی کا دَرْوازہ ہے، جب بندہ خُود کو بُھول جاتا ہے تو خُود اپنے پیروں پر چل کر عذابِ اِلٰہی کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے، بڑھتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ عذاب میں گرفتار ہو جاتا ہے۔اللہ پاک نے پچھلی قوموں کا ذِکْر کیا، فرمایا:
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ (پارہ:7، سورۂ انعام:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: پھر جب انہوں نے ان نصیحتوں کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھیں۔
یعنی اُن کو جن نیک اعمال کی نصیحت کی گئی تھی، جب وہ اُن نصیحتوں کو بُھول گئے، پِھر کیا ہوا؟ *کیا اُن پر فوراً پتھر برسے؟ نہیں...!! *کیا اُن پر فوراً زلزلے آئے؟ نہیں...!! *کیا اُسی وقت زمین پھٹی اور وہ اندر دھنس گئے؟ نہیں...!!*کیا اُسی وقت اُن پر چنگھاڑ کا عذاب آ گیا؟ نہیں...!! *کیا اُسی وقت اُن پر رِزْق بند کر دیا گیا؟ نہیں...!! پِھر کیا ہوا؟ فرمایا:
فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ- (پارہ:7، سورۂ انعام:44)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو ہم نے ان پر ہر چیز کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami