Share this link via
Personality Websites!
بُھلایا، تم قارون جیسے نہ بنو *نمرود *شَدَّاد *قومِ ثمود *قومِ عاد *اَبُوجَہْل *عُتْبَہ *شَیْبَہ وغیرہ ان سب نے اللہ پاک کو بُھلایا دیا، تم ان جیسے مت بننا *اسی طرح اپنے زمانے پر غور کرتے جائیے! ہر وہ شخص جس نے اللہ پاک کو بُھلا دیا، دُنیا میں، دُنیاوِی نعمتوں میں غرق ہو کر خُداوندِ قُدُّوس کی یاد سے بیگانہ ہو گیا، فرمایا: اس جیسے ہر گز مت بننا۔
اب سُوال یہ ہے کہ ان لوگوں نے اللہ پاک کو بُھلایا تو اُن کے ساتھ کیا ہوا؟ اور اگر خُدانخواستہ ہم اُن جیسے ہو جائیں تَو ہمارے ساتھ کیا ہو گا؟ اللہ پاک نے فرمایا:
فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۱۹) (پارہ:28، سورۂ حشر:19)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو اللہ نے انہیں ان کی جانیں بُھلا دِیں ، وہی نافرمان ہیں ۔
اللہ اکبر! یہ ایک عجیب سزا ہے، انسان نے اللہ پاک کو بُھلایا تو اُس پر پتھر نہیں برسے، سخت زلزلے نہیں آئے، آگ نہیں برسی بلکہ اس کو خُود اپنا آپ بُھلا دیا گیا اور جب انسان کو اپنا آپ بُھول گیا تو اپنی سرکشی کے سبب عذاب کا مُسْتَحِقْ ہو گیا۔
روزِ قیامت اَندھا کر کے اُٹھایا جائے گا
پیارے اسلامی بھائیو! یہ یاد رکھیے! سب سے سخت تَرِین عذاب یہی ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بُھول جائے۔ قرآنِ کریم میں ہے: جو لوگ اللہ پاک کو، اللہ پاک کی یاد کو بُھول جاتے ہیں، ذِکْرِ اِلٰہی سے مُنہ پھیر لیتے ہیں، ان کے لیے یہ دُنیا کی زندگی بھی تنگ کر دی جاتی ہے اور روزِ قیامت اُنہیں اَندھا کر کے اُٹھایا جائے گا۔ اب وہ شخص اللہ پاک کے حُضُور عرض گزار ہو گا:
رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا(۱۲۵) (پارہ:16، سورۂ طہ:125)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اے میرے ربّ! تُو نے مجھے اندھا کیوں اُٹھایا حالانکہ میں تو دیکھنے والاتھا؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami