Share this link via
Personality Websites!
پِھر بعد میں واپس بھی دے جاتے ہیں اور جو مسجد کی چیز استعمال کی، اس کے بدلے مسجد میں پیسے ڈال دیتے ہیں، یہ غلط انداز ہے، ایساکرنے والے گنہگارہیں۔ یاد رکھیے! مسجد کی چیزیں جو مسجد ہی کے لیے ہیں، انہیں اپنے گھر وغیرہ میں استعمال کے لیے لے جانا شرعاً جائِز نہیں بلکہ حرام و گُنَاہ ہے۔ ایسا کرنے والے گنہگار ہوتے ہیں، ان پر لازِم ہے کہ اس کام سے توبہ کریں اور آیندہ ایسا ہر گز نہ کریں۔([1]) بہارِ شریعت میں ہے: مسجد کی کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بےموقع اور بےمحل استعمال کرنا نَاجائِز ہے۔([2])اللہ پاک ہمیں دُرست اسلامی اَحْکام سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيثُ
جب بھی دِل غمگین ہو تو یہ کلمات يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيثُ پڑھ لیا کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! راحت نصیب ہو گی۔ نوٹ: غم کے وقت یہ دُعا پڑھنا سُنّتِ مصطفےٰ ہے۔([3]) اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami