Share this link via
Personality Websites!
ہم اپنی اس اہمیت کو بُھول کیسے جاتے ہیں، میں ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں؛ آج کل رِیْلز(Reels) آتی ہیں، سوشل میڈیا پر وِیْڈیوز آتی ہیں، لوگ دیکھتے بھی ہیں، ایک ویڈیو تقریباً 30 سیکنڈ کی ہوتی ہے۔ اور لوگ دِن میں سینکڑوں ویڈیوز دیکھ جاتے ہیں۔
میں ایک اندازہ آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ سب سے چھوٹا درودِ پاک ہے: صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد۔ 30 سیکنڈ میں ہم یہ والا درودِ پاک زیادہ نہ بھی سہی کم از کم 10 مرتبہ تَو پڑھ ہی سکتے ہیں، اب آپ سوچئے! 30 سیکنڈ کی ویڈیو دیکھی، ہمیں کیا مِلا؟ کچھ بھی نہیں مِلا بلکہ ڈیٹا صَرْف ہوا، وقت صَرْف ہوا، اس میں اگر میوزک(Music) تھا، بےپردگی تھی تو مَعَاذَ اللہ! گنہگار ہوئے۔ اسی 30 سیکنڈ میں اگر ہم 10 مرتبہ درودِ پاک پڑھ لیتے تو روایات کے مُطَابِقْ رحمت کے 7 سو دروازے کھل جاتے،([1]) 100 گُنَاہ معاف ہوتے، جنّت میں 100 درجات بلند ہو جاتے۔ ([2])
اللہ اکبر! آپ اندازہ لگائیے کہ ہم اپنے آپ کو کتنی کم قیمت میں فروخت کرتے چلے جا رہے ہیں، ہماری قیمت جنّت لگائی گئی اور ہم رِیْلز(Reels) کے بدلے خُود کو ضائِع کر رہے ہیں۔
تُوْ بَہ قِیْمَتْ وَرَائے دو جَہَانِے چِہ کُنَمْ قِیْمَتِ خُوْدْ نَمِی جَانَے
مفہوم: تیری قیمت دوجہان سے زیادہ ہے، مگر کیا کروں تم خُود اپنی ہی قیمت نہیں جانتے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami