Share this link via
Personality Websites!
(5): خُود کو بُھولنا؛ یعنی اپنی اہمیت بُھول جانا
اب یہاں میں خُود کو بُھولنے کی ایک اور صُورت بھی عرض کرنا چاہوں گا؛ اپنی اہمیت بُھول جانا، یہ بھی خُود کو بُھول جانے میں شُمار ہوتا ہے۔ مثال کے طَور پر ایک شخص بہترین سونَا کوڑیوں کے دام بیچ ڈالے، اسے ہم کیا کہیں گے؟ یہیں کہیں گے نا کہ بھائی! تجھے سونے کی اہمیت مَعْلُوْم ہی نہیں ہے۔ ایسے ہی جو بندہ خُود کی اہمیت نہیں جانتا، وہ بھی تَو خُود کو بھولا بیٹھا ہے۔
آپ دیکھیے! ایک انسان جبکہ وہ انسان ہے، اس کی قیمت کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پارہ:11، سورۂ توبہ:111)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بدلے میں خرید لیے کہ ان کے لیے جنت ہے۔
اللہ اکبر! ہمارے خالق، ہمارے مالِک نے ہماری قیمت جنّت لگائی ہے، سوچئے ہم کتنے قیمتی ہیں، حدیثِ پاک میں اِرْشاد ہوا: جنّت میں کَوْڑا (چَابُک) رکھنے کی جگہ اس دُنیا اور جو کچھ دُنیا میں ہے، اس سے بہتر ہے۔([1]) آپ اندازہ کیجیے! وہ جنّت جہاں کی 2فِٹ کی جگہ اس تقریباً 51کروڑ مربع کلو میٹر کی زمین اور ہزاروں نُوری سالوں پر پھیلی ہوئی اس کائنات سے اعلیٰ اور قیمتی ہے، ہماری جان کی قیمت اُس جنّت کی 2فِٹ کی جگہ نہیں بلکہ وہاں کے محلّات کے ساتھ لگائی گئی ہے۔ سوچئے! ہم کتنے قیمتی ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami