Share this link via
Personality Websites!
آپ فرعون کو دیکھیے نا؛ بندہ تھا، مٹّی کا بنا ہوا بندہ...!! جسے اللہ پاک نے ایک قطرے سے انسان بنایا تھا، وہ بندہ، جب یہ اپنی اَوْقات بُھول گیا، اپنی خِلقت کو بُھول گیا تو بولا:
اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) (پارہ:30، سورۂ نٰزعٰت:24)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: میں تمہارا سب سے اعلیٰ ربّ ہوں ۔
اس بکواس کا نتیجہ کیا نکلا:
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَكَالَ الْاٰخِرَةِ وَ الْاُوْلٰىؕ(۲۵) (پارہ:30، سورۂ نٰزعٰت:25)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: تو اللہ نے اسے دنیا و آخرت دونوں کے عذاب میں پکڑا۔
پتا چلا؛ ہمیں کبھی بھی اپنی اَوْقات نہیں بھولنی چاہیے، ہم لوگ تکبّر میں پڑ جاتے ہیں، خُود پسندی میں پڑ جاتے ہیں، خُود کو بڑا کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ جب آدمی تکبّر میں پڑ جائے تو سمجھ لیجیے کہ وہ بندہ خُود کو بُھول گیا اور عذاب کی طرف چل پڑا ہے۔
پیارے آقا صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ فِي قَلْبِہٖ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ كِبْرٍ
ترجمہ: یعنی جس کے دِل میں رائی کے دانے برابر بھی تکبّر ہوا، وہ جنّت میں داخِل نہیں ہو سکے گا۔ ([1])
اللہ پاک ہمیں مَحْفُوظ فرمائے۔ ہمیں خُود کو یاد رکھنا چاہیے۔ اپنے آپ کو، اپنی اوقات کو یاد رکھنا چاہیے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami