Share this link via
Personality Websites!
ہے اور اپنی پیدائش کوبھول گیا۔
اُبَیْ بِن خَلَف جو مکّے کا بڑا غیر مسلم تھا، ایک دِن پُرانی بَوسِیدہ سِی ہڈّی لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوا، یہ اپنے ہاتھ سے ہڈّی کو توڑتا جاتاتھا اور کہہ رہا تھا: اے مُحَمَّد صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم ! کیا آپ یہ کہتے ہیں کہ اس ہڈّی میں دوبارہ جان ڈال دِی جائے گی۔ اس پر اللہ پاک نے یہ آیتِ کریمہ نازِل کی، فرمایا: اُبَی بِنْ خَلْف کتنا بدنصیب ہے، ہمیں تو مثالیں دے رہا ہے مگر اپنی تخلیق کو بُھول گیا، کیا یہ نہیں جانتا کہ اسے بھی ہم نے ایک قطرے سے انسان بنایا ہے، جو مالِکِ کریم ایک قطرے سے گوشت اور ہڈیاں بنا سکتا ہے، وہ بُھری ہوئی ہڈیوں میں دوبارہ جان بھی ڈال سکتا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! پتا چلا؛ اپنی تخلیق کو بُھول جانا، میری ابتدا کیا ہے؟ میری انتہا کیا ہے؟ میری حیثیت کیا ہے؟ یہ بُھول جانا بھی انسان کو غلط راہوں کا مُسَافِر بنا دیتا ہے۔
حدیثِ پاک میں ہے، ایک دِن رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے کچھ پانی اپنی ہتھیلی پر لیا، اس میں انگلی لگائی، کچھ تَرِی ہاتھوں پر آ گئی تو فرمایا: اللہ پاک فرماتا ہے: اے اولادِ آدم!
أَتُعْجِزُنِي، وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِنْ مِثْلِ هَذِهِ؟
کیا تم مجھے عاجز بتاؤ گے؟ جبکہ میں نے تمہیں اس جیسے پانی سے بنایا ہے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami