Share this link via
Personality Websites!
چھوٹی لکیریں، مختلف آفات ہیں جو انسان کو چمٹی ہوئی ہیں، انسان ایک سے بچ جاتا ہے تو دوسری اُسے ڈَس(Sting) لیتی ہے اور وہ (یعنی ڈبے سے باہَر والی لکیر) انسان کی اُمِّید ہے۔([1])
آتے ہوئے اذاں ہوئی، جاتے ہوئے نماز اتنے قلیل وقت میں آئے اور چل دئیے
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں اپنی موت کو یاد رکھنا چاہیے *حدیث شریف میں ہے:جسے موت کی یاد خوف زدہ(Frighten) کرتی ہے قبر اِس کے لیے جنت کا باغ بن جائے گی([2]) *بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی : یا رسولَ اللہ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم !کىا کسی کو شُہَدا کے ساتھ بھی اٹھایا جائے گا؟فرماىا:ہاں،اس کو جو دن رات مىں 20 مرتبہ موت کو ىاد کرتا ہو([3]) *حضرت اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے رواىت ہے کہ حضورِ نبى پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرماىا:موت کو کثرت سے ىاد کىا کرو کىونکہ وہ گناہوں کو زائل(Eliminate) کرتى اور دنىا سے بے رغبتى پىدا کرتى ہے([4])
(4): خُود کو بُھولنا؛ یعنی اپنی اَوْقات بُھول جانا
پیارے اسلامی بھائیو! خُود کو بُھول جانے کی ایک اور صُورت بھی ہے اور وہ ہے اپنی اَوْقات بُھول جانا۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗؕ- (پارہ:23، سورۂ یٰسین:78)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور ہمارے لیے مثال دیتا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami