Share this link via
Personality Websites!
ہاتھی جیسے بھی نہ چھوڑے موت نے کیسے کیسے گھر اُجاڑے موت نے
قبر میں میّت اُترنی ہے ضرور جیسی کرنی، ویسی بھرنی ہے ضرور
پیارے اسلامی بھائیو! کم و بیش ہمارا حال بھی ایسا ہی ہے* ہم نہیں جانتے کہ موت کب آنی ہے؟* مَعْلُوم نہیں کہ اگلی سانس بھی لے پائیں گے یا نہیں؟* کل کا سُورج دیکھنا بھی نصیب ہو گا یا نہیں ہو گا؟ ہم نہیں جانتے مگر ہماری خواہشوں، تمنّاؤں اور لمبی اُمِّیدوں کو دیکھیں تو آیندہ کئی کئی سال کی منصوبہ بندی(Planning)کر کے بیٹھے ہوتے ہیں * بڑھاپا اچھّا گزارنے کے لیے مال ابھی سے جمع کر رہے ہوتے ہیں* بینک بیلنس (Bank balance)بڑھایا جا رہا ہوتا ہے* آیندہ سالوں کے لیے چیزیں ذخیرہ (Store)کر رہے ہوتے ہیں* کوئی چھوٹی سی چیز بھی بازار سے خریدنی ہو تو پُوچھتے ہیں: کیا اِس کی وارنٹی ہے؟
جی ہاں! اِن چیزوں کی تو وارنٹی ہے مگر افسوس! ہماری کوئی وارنٹی نہیں ہے۔ آج جو ہم مَضْبُوط ، پائیدار، کئی سال تک چلنے والی چیز خرید رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ یہ یہیں کی یہیں رہ جائے اور ہم موت کے گھاٹ اُتر جائیں۔
انسان، موت اور اُمِّید کی مثال
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ایک دِن اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے چوکور ڈبہ (Square Box) بنایا،اِس کے اندر ایک لکیر لگائی، پھر اِس لکیر کے دونوں طرف چھوٹی چھوٹی لکیریں لگائیں، پھر اِس ڈبے سے باہَر ایک لکیر کھینچی، پھر فرمایا:یہ (یعنی ڈبے کے اندر کی ایک لکیر) انسان ہے اور یہ (یعنی اس کے گرد چوکور ڈبہ) یہ موت ہے، جس نے انسان کو گھیر رکھا ہے، یہ چھوٹی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami