Share this link via
Personality Websites!
کرنے پہنچا، میں نے دیکھا کہ وہ دُور ریگستان میں تھی، اُس کے ساتھ اُس کا دُودھ پیتا بچہ(suckling infant) بھی تھا،اُس کے عِلاوہ دُور دُور تک کوئی موجُود نہیں تھا۔ اُس خاتُون کی رُوح قبض کرتے وقت مجھے بچے پر بہت رحم آیا اور میں رَو دیا تھا، بہرحال! حکم تھا، رُوح تو قبض کرنی ہی تھی، چنانچہ میں اُس بچے کو وہیں چھوڑ کر ماں کی رُوح قبض کر لایا۔ آج اچانک اُسی بچے کے مُتَعَلِّق سوچ کر مجھے رونا آ گیا۔
عرض کیا: اے مالِکِ کریم! یہ تھی میرے رونے کی وجہ۔ مسکرایا اِس لیے تھا کہ ایک مرتبہ میں ایک شخص کی رُوح قبض کرنے پہنچا، وہ بہت بُوڑھا تھا، کمر جھکی ہوئی تھی، لاٹھی کے سہارے چلتا تھا، جب میں رُوح قبض کرنے پہنچا، تب وہ ایک موچی (Cobbler)کے پاس تھا، اُس کا جوتا ٹوٹ گیا تھا، وہ موچی سے کہہ رہا تھا: میرے جُوتے کا ایسا مَضْبُوط تَلْوا(Sole) لگاؤ! کم از کم سال تو گزار ہی جائے۔
اُسے دیکھ کر میں مُسْکرا پڑا کہ دیکھو! کتنا بُوڑھا ہو چکا ہے، میں ابھی اِس کی رُوح قبض کرنے والا ہوں اور یہ سال بھر زِندہ رہنے کی اُمِّید لگائے بیٹھا ہے۔ آج اُسی بُوڑھے (Old Man)کے مُتَعَلِّق سوچ کر میں پِھر سے مسکرا پڑا۔
اللہ پاک نے فرمایا: اے مَلَکُ الموت...!! اِنَّ الذِّیْ اَبْکَاکَ ہُوَ الذِّی اَضْحَککَ بیشک جس نے تجھے رُلایا، وہی ہے جس نے تجھے ہنسایا ہے۔ یعنی اے مَلَکُ الموت! وہ بچہ جس پر رحم کھا کر تمہیں رونا آیا تھا، یہ وہی تھا جو بڑا ہوا، لمبی عمر پائی، بُڑھاپے کو پہنچا، یہی وہ بُوڑھا تھا جس کی لمبی اُمِّید کو دیکھ کر تم مسکرا دئیے تھے۔([1])
پہلوانوں کو پچھاڑا موت نے کھیل کتنوں کا بِگاڑا موت نے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami