Share this link via
Personality Websites!
(3): خُود کو بھولنا؛ یعنی موت کو بُھولنا
پیارے اسلامی بھائیو! میں، آپ، یہ پُوری کائنات، ہم سب فانِی ہیں، ہم سب نے اپنی اپنی بارِی پر موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اس دُنیا سے جانا ہی جانا ہے۔ مگر اَفسوس! ہمیں یہ دُنیا یاد رہتی ہے، موت بُھول جاتی ہے۔ یہ بھی خُود کو بُھول جانا ہے کہ ہم اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِری کو بُھول جائیں، عیش و عشرت میں کھو کر قبر کے تنگ و تارِیک گڑھے کو ہم بُھول جائیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۚ-فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَاۙ- (پارہ:8، سورۂ اعراف:51)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکا دیا تو آج ہم انہیں چھوڑ دیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اِس دن کی ملاقات کو بُھلا رکھا تھا۔
اللہ اکبر! پتا چلا؛ جو دُنیا کی عارضی، فانِی زندگی کے دھوکے میں آجائیں، یہاں کی عیش و عشرت میں کَھو جائیں، قبر و آخرت کو بُھول جائیں، وہ بھی خُود کو بھولنے والے ہیں، روزِ قیامت انہیں بھی نظرِ رحمت سے مَحْرُوم کر دیا جائے گا۔
روایات میں ہے: ایک مرتبہ حضرت عزرائیل علیہ السَّلام (ʿAzrāʾīl) کہیں بیٹھے تھے، بیٹھے بیٹھے مسکرانے لگے، پِھر تھوڑی ہی دیَر بعد رونا شروع ہو گئے۔ رَبِّ کریم جو سب چھپی باتیں جانتا ہے، اللہ پاک نے فرمایا: اے مَلَکُ الموت...!! تم مسکرائے کیوں؟ پِھر روئے کیوں؟ عرض کیا: یا اللہ پاک! ایک مرتبہ تُو نے مجھے حکم دیا، میں ایک خاتُون کی رُوح قبض
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami