Share this link via
Personality Websites!
ترجمہ: شبِ معراج میں ایک قوم کے پاس سے گزرا، (میں نے یہ مَنْظَر دیکھا کہ )
تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيْضَ مِنْ نَارٍ
ترجمہ: کچھ لوگ ہیں، ان کی باچھیں آگ کی قینچیوں سے کاٹی جا رہی ہیں۔
میں نے جبرائیل علیہ السَّلام سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کیا:
كَانُوا يَاْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ اَنْفُسَهُمْ
ترجمہ: یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو نیکی کا حکم کرتے تھے مگر خُود کو بُھول جاتے تھے۔([1])
تم جہنّم میں کیوں پہنچ گئے...؟
ایک حدیث شریف میں ہے: روزِ قیامت جب جنّتی جنّت میں پہنچ جائیں گے، جہنمی جہنّم میں چلے جائیں گے، تب اَہْلِ جنّت جہنّم کی طرف جَھانک کر دیکھیں گے تو وہاں کچھ لوگ نظر آئیں گے، اب اَہْلِ جنّت کہیں گے:
بِمَ دَخَلْتُمُ النَّارَ؟ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْنَا الْجَنَّةَ إِلَّا بِمَا تَعَلَّمْنَا مِنْكُمْ
ترجمہ: یعنی؛ تُم جہنّم میں کیسے پہنچ گئے؟ اللہ پاک کی قسم! ہم تو تمہاری نصیحت پر عمل کر کے جنّت میں پہنچے ہیں۔
وہ کہیں گے:
اِنَّا كُنَّا نَقُولُ وَلَا نَفْعَلُ
ترجمہ: ہم تمہیں تَو نصیحت کرتے تھے مگر خُود عمل نہیں کیا کرتے تھے۔([2])
عمل سے زندگی بنتی ہے، جنّت بھی جہنّم بھی یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نُوری ہے نہ نارِی ہے([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami