Share this link via
Personality Websites!
تھے، راستے میں ایک مقام پر نماز کا وقت ہو گیا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت بلال رَضِیَ اللہ عنہ کو اذان پڑھنے کا حکم دیا۔ حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم چھوٹے بچے قریب ہی ایک جگہ سے گزر رہے تھے، چنانچہ میں نے جب اذانِ بلال کی آواز سُنی تو (چونکہ غیر مسلم گھرانے میں پرورش پائی تھی)، لہٰذا مذاق اُڑانے کی نِیت سے میں نے اَذانِ بلال کی نقل اُتارنی شروع کر دی۔
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے میری آواز سُنی تو مجھے اپنی خِدْمت میں بُلایا(اب جنابِ ابومَحْذُورَہ ڈَر رہے تھے کہ نہ جانے کیا سزا ملے گی) مگر
ڈر تھا کہ عصیاں کی سزا، اب ہو گی یا روزِ جزا
دِی اُن کی رحمت نے صدا، یہ بھی نہیں، وہ بھی نہیں([1])
جنابِ ابومَحْذُورَہ فرماتے ہیں: پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے اپنے قریب کیا اور فرمایا:
قُمْ فَاَذِّنْ
ترجمہ: کھڑے ہو کر اذان پڑھو...!!
کہتے ہیں: میرا دِل تو نہیں چاہ رہا تھا مگر میں کھڑا ہو گیا، اذان پڑھنی شروع کی، درمیان میں جہاں جہاں الفاظ بُھول رہے تھے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مجھے بتا رہے تھے۔ جب میں اذان مکمل کر چُکا تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے انعام میں سونے سے بھری ہوئی تھیلی عطا فرمائی اور میرے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چہرے پر پھیرتے ہوئے سینے تک لے آئے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami