Share this link via
Personality Websites!
پہلے اور بعد صلوٰۃ و سلام کیوں پڑھا جاتا ہے...!! آپ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کا انداز مبارَک دیکھیے...!! آپ اذان پڑھتے، اس کے بعد صِرْف صلوۃ و سلام عرض نہ کرتے بلکہ دروازۂ مصطفےٰ پر حاضِر ہو کر سلام پیش کیا کرتے تھے۔
آہ! آج ہمارے ایسے نصیب کہاں...؟ ہم اذان تَو پڑھ سکتے ہیں مگر اس کے بعد دروازۂ مصطفےٰ پر حاضِر ہو کر حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی طرح سلام عرض نہیں کر سکتے، لہٰذا سوزِ بِلال کا فیضان پانے، ادائے بِلال کو ادا کرنے اور دِل کو تسکین دینے کے لیے دُور ہی سے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے حُضُور صلوٰۃ و سلام عرض کر لیتے ہیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
جب اذانِ بلال کی نقل اُتاری گئی
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی بھی کیا نِرالی شان ہے۔ آپ کی محض نقل کر لینے سے کیا کیا برکتیں نصیب ہوتی ہیں، روایت سنیے! حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ مکّہ پاک کے مؤذِّن تھے۔
یعنی جیسے حضرت بلال رَضِیَ اللہ عنہ مدینۂ پاک میں اذانیں پڑھا کرتے تھے، حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ مکّہ شریف میں اذان پڑھا کرتے تھے۔ حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ کو یہ شرف، یہ ذِمَّہ داری کیسے نصیب ہوئی، آپ اس کا واقعہ خُود بیان کرتے ہیں، اس وقت حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ چھوٹی عمر کے تھے، چونکہ اِسْلام بھی ابھی قبول نہیں کیا تھا، چنانچہ مسلمانوں کی اداؤں اور مَعْمُولا ت کو پسند نہیں کرتے تھے۔
فرماتے ہیں: فتح مکّہ کے بعد کی بات ہے، پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سَفَر میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami