Share this link via
Personality Websites!
اذان سے پہلے اور بعد کے مَعْمُولات
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بِلال حبشی رَضِیَ اللہ عنہ کا اذان دینے کا انداز بھی بڑا نِرالا اور خوبصُورت تھا۔ روایات میں ہے: فجر کے وقت حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ اذان دینے کی جگہ پر وقت سے پہلے ہی پہنچ جاتے، وہیں بیٹھ کر فجر کا وقت شروع ہونے کا انتظار کرتے رہتے، جب وقت ہو جاتا تو پہلے یُوں دُعا کرتے: اے اللہ پاک! میں تیری حمد کرتا ہوں اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں، اس بات پر کہ قریش ہدایت قبول کریں اور تیرے دِین کے خِدْمتگار بن جائیں۔ اس کے بعد اذان کہتے۔
پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا مَعْمُول مبارک تھا نمازِ تَہَجُّد ادا فرمانے کے بعد کچھ دَیْر آرام فرماتے۔ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ جب اذانِ فجر دے لیتے تو دروازۂ مصطفےٰ پر حاضِر ہوتے، عرض کرتے: اَلسَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ! پِھر عرض کرتے: اَلصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللهِ!یعنی یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! آپ پر سلام ہو، یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم! نمازِ فجر کا وقت ہو گیا ہے۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ!آپ غور فرمائیے! آج دُنیا میں لاکھوں نہیں کروڑوں مؤذِّن موجود ہیں مگر حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کے اس نصیب پر قربان جائیے! اذان کے بعد محبوبِ ذیشان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا یُوں دِیدار پانے کا شرف صِرْف حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کو حاصِل تھا۔
خُوشا وہ وقت کہ طیبہ مقام تھا تیرا خُوشا وہ وقت کہ دِیدار عام تھا تیرا
پیارے اسلامی بھائیو! بعض دفعہ شیطان ذِہنوں میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ اذان سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami