Share this link via
Personality Websites!
بلال ہمیں اذان سے راحت پہنچاؤ!
پیارے اسلامی بھائیو!اَوَّل تَو اذان خُود ذِکْرِ خُدا و رسُول ہے، پِھر اس کے ساتھ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کے اِخْلاص اور عشقِ رسول کی دِل کشی بھی شامِل ہو جاتی، اس کے ساتھ ساتھ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی آواز مبارَک ویسے ہی بہت خوبصُورت اور سوز و گُداز سے بھرپُور تھی، چنانچہ جب مدینۂ پاک کی گلیوں میں حضرت بلال رَضِیَ اللہ عنہ کی اذان کی آواز گونجتی تو دِلوں میں اِیْمان کی تازگی بھرتی چلی جاتی تھی۔
ایک حدیثِ پاک میں ہے: پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم جب کبھی غمگین ہوتے تو حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ سے فرماتے:
قُمْ يَا بِلَالُ، فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ
ترجمہ: بلال! اُٹھو...!! نماز کے لیے اذان دے کر ہمارے دِل کو راحت پہنچاؤ...!! ([1])
حضرت مولانا رُوم رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اس حدیثِ پاک کی وضاحت میں فرماتے ہیں: اَصْل میں حضرت بِلال رضی اللہ عنہ بہت ہی باکمال و بےمثال شخصیت ہیں، آپ کے دِلِ پاک میں اللہ و رسول کی محبّت رَچ بَس چکی تھی، لہٰذا محبّتِ اِلٰہی سے سرشار دِل میں سے نکلی ہوئی اذانِ بلال سُن کر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم راحت پاتے تھے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! کیا عظیم شانِ بلالِ حبشی رَضِیَ اللہ عنہ ہے، آپ کی اذان کی آواز راحتِ جانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا سبب بنتی تھی۔
سُنا ہے نام میں اثرات آہی جاتے ہیں مگر بلال کے جیسا کوئی بِلال نہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami