Share this link via
Personality Websites!
مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے ہمیں بُلایا، ہم حاضِر ہوئے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم یہی آیات تلاوت فرما رہے تھے، اس دِن سے رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہمیں اتنا قریب بٹھاتے کہ ہمارے گھٹنے جانِ کائنات، فخرِ موجودات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے گھٹنوں کے ساتھ مل جایا کرتے تھے۔ ([1])
جب تک بِکے نہ تھے، کوئی پوچھتا نہ تھا آپ نے خرید کر ہمیں انمول کر دیا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ دُنیائے اسلام کے پہلے مُؤذِّن ہیں۔ جب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مدینۂ پاک تشریف لائے، یہاں آ کر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مسجدِ نبوی شریف تعمیر فرمائی، اب مسلمانوں کے لیے ایک مرکز تَو بن چکا تھا مگر نماز کے وقت لوگوں کو بُلانے کا کوئی واضِح طریقہ اُس وقت تک موجود نہیں تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زید رَضِیَ اللہ عنہ کو خواب کے ذریعے اذان سکھائی گئی۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جب ان دونوں حضرات کا خواب سُنا تو فرمایا:
یَا بِلَالُ قُمْ فَانْظُرْ مَا يَأْمُرُكَ بِهِ عَبْدُ الله ِبْنُ زَيْدٍ فَافْعَلْہٗ
ترجمہ: بِلال...!! اُٹھو...!! جو عبد اللہ بن زید بتاتے ہیں، اس کے مطابق اذان دو۔ ([2])
چنانچہ اِسْلام کی تاریخ میں یہ پہلی اذان تھی جو حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ نے دِی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami