Share this link via
Personality Websites!
وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- (پارہ7،سورۂ انعام:52)
جو صبح وشام اپنے ربّ کو اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے ہیں۔
اِس آیتِ کریمہ میں اللہ پاک نے اپنے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو حکم دیا کہ اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ اِن صحابہ کو ہرگز اپنی بارگاہ سے دُور مت فرمائیے، یہ تو وہ نیک اور پارسا لوگ ہیں جو صبح و شام اللہ پاک کی عِبَادت کرتے ہیں اور عِبَادت بھی کیسی...؟ دِکھاوے کی نہیں، ریاکاری والی نہیں، دُنیوی لالچ والی عِبَادت نہیں بلکہ یہ عِبَادت کرتے ہیں اور یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗؕ- اپنی اس عِبَادت سے صِرْف اللہ پاک کی رِضا چاہتے ہیں۔([1])
اللہ اَکْبَر! اِن صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم کی شان میں اللہ پاک مزید ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَۙ- (پارہ7،سورۂ انعام:54)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور جب آپ کی بارگاہ میں وہ لوگ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ: تم پر سلامتمہارے رب نے اپنے ذِمّۂ کرم پر رحمت لازم کر لی ہے۔
یعنی اے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! یہ پاک لوگ (یعنی حضرت بلال، حضرت صہیب رُومی رَضِیَ اللہ عنہما وغیرہ) جب آپ کی خِدْمت میں حاضِر ہوں تو آپ ان کی عِزَّت افزائی کیجیے! ان کے ساتھ سلام میں پہل کیجیے! اور انہیں یہ خوشخبری سُنا دیجیے کہ اللہ پاک نے فَضْل کرتے ہوئے اپنے ذِمَّۂ کرم پر رحمت لازِم کر لی ہے۔([2])
حضرت خَبَّاب رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیات نازِل ہوئیں تو پیارے آقا، مکی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami