Share this link via
Personality Websites!
کرام علیہم السَّلام کی شان کیا ہوگی، یہ موضوع تھا، اس سلسلے میں غیبوں پر خبردار نبی، مکی مدنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: حضرت صالِح علیہ السَّلام روزِ قیامت اپنی اونٹنی پر سُوار ہوں گے، میں بُراق پر سُوار ہو کر آؤں گا، پھر آپ نے حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی جانِب نگاہ اُٹھائی اور فرمایا: بِلال کی یہ شان ہو گی کہ جنّتی اونٹنی پر سُوار ہوں گے، اذان پڑھتے ہوئے میدانِ محشر میں آئیں گے، بِلال کی اذان کی آواز سب سُنیں گے، اس وقت انبیائے کرام علیہم السَّلام کی نِگاہیں بھی بلال پر لگی ہوں گی، جب بِلال اذان مکمل کر لیں گے تو انہیں جنّتی لباس پہنایا جائے گا۔ انبیائے کرام علیہم السَّلام اور شُہَداء کے بعد بِلال پہلے شخص ہوں گے جنہیں جنّتی لباس ملے گا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! کیا شانِ بِلال رَضِیَ اللہ عنہ ہے...!! گویا قیامت والے دِن بھی اذانِ بلال کی گونج ہو گی، سب اَہْلِ محشر اس پُرسوز اذان کا لطف اُٹھائیں گے۔ اللہ کرے، ہمیں اِیْمان پر موت نصیب ہو جائے۔ اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے صدقے ہم بھی اذانِ بِلال سننے کا مزَہ لیں گے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اذان دِین کی پہچان ہے۔ آج کل ہمارے ہاں عموماً مسجدوں میں مؤذِّن مقرَّر ہوتے ہیں، پِھر بھی ہمیں چاہیے کہ کبھی کبھی یا روز ہی موقع نصیب ہو تو اجازت لے کر اذان پڑھنے کی سَعَادت حاصِل کیا کریں۔ چند احادیثِ کریمہ سنیے!
*معجمِ کبیر میں حدیث ہے: ثواب کی خاطِر اذان دینے والا اس شہید کی طرح ہے جو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami