Share this link via
Personality Websites!
زیارت کیا کرتا تھا، آج جب اذان پڑھوں گا، دیدار سے محروم رہوں گا تو دِل برداشت نہیں کر پائے گا، آہ! آج مجھے اس فرمائش سے مُعَاف رکھو! صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم اِصْرار کر رہے ہیں، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ انکار کر رہے ہیں، اتنے میں پیارے آقا، رسولِ خُدا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے ننھے نواسے امام حَسَن اور امام حُسَین رَضِیَ اللہ عنہما تشریف لے آئے، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ نے شہزادوں کو سینے سے لگایا، پیار کیا، اب شہزادوں نے کہا: بلال! ہمارے نانا جان، رحمتِ دوجہان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو جو اذان سُنایا کرتے تھے، آج وہی اذان پھر سُنا دو! بھلا ان شہزادوں کی بات کیسے ٹالی جا سکتی تھی۔ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ نے شہزادوں کے حکم پر سَر جھکا دیا، اذان دینے کی جگہ تشریف لائے، کانوں پر ہاتھ رکھے اور پُر سَوْز آواز میں پڑھا: اللہ اَکْبَرُ، اللہ اَکْبَرُ۔
اذان کی یہ پُر سَوْز آواز مدینۂ پاک میں گونج گئی، سرزمینِ مدینہ پر ایک لرزہ طاری ہوا، کہرام مچ گیا، لوگوں کی چیخیں بلند ہو گئیں، سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی یاد سے دِل بے تاب ہو گئے، ننھے بچے اپنی ماؤں سے لپٹ کر پوچھتے تھے: امی جان! حضرت بِلال تو آگئے، ہمارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کب تشریف لائیں گے؟
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ اذان پڑھ رہے تھے، مدینۂ پاک میں قیامت کا مَنْظَر تھا، جب حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ نے پڑھا: اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ۔ نگاہ اُٹھی، منبرِ نُور پر پڑی، آہ! منبر خالی تھا، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ یادِ مصطفےٰ سے تڑپ گئے، دِل بےقابُو ہو گیا اور شِدَّتِ غم سے غَشْ کھا کر زمین پر تشریف لے آئے۔ ([1])
تمہارے ہجر میں کیوں زندگی نہ مشکل ہو تم ہی جگر ہو، تم ہی جان ہو، تم ہی دِل ہو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami