Share this link via
Personality Websites!
سے واپسی پر سُواری کو تیز کر دیا کرتے تھے، اس وقت حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی کیفیات کیا ہوں گی؟ مدینہ مُنَوَّرہ پر برستا ہُوا نُور، وہاں کے روشن روشن در و دِیوار دیکھ کر حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ بےتاب ہو گئے ہوں گے، دِل میں محبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے دیدار کی تڑپ مزید بڑھ گئی ہو گی، دِل مچل گیا ہو گا، دھڑکن تیز ہو گئی ہو گی۔
اللہ اَکْبَر! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ مدینۂ پاک پہنچے مگر آہ! حُضُور، جانِ کائنات صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مَسْجِد میں نہیں ہیں، اَزْواجِ پاک کے حجروں میں بھی نہیں ہیں، آہ! غُلام کو مُلْکِ شام سے بُلایا اور خود پردے میں تشریف فرما ہیں۔
کیوں آنکھ مِلائی تھی، کیوں آگ لگائی تھی
اب رُخ کو چھپا بیٹھے، کر کے مجھے دِیْوانہ
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ حضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے مزارِ پُر اَنْوار پر حاضِر ہوئے، اپنا چہرہ مزارِ پاک کی مبارک خاک پر ملنے لگے، روتے جاتے تھے، گویا یہ عرض کر رہے تھے:
اُٹھا دو پردہ، دِکھا دو چہرہ کہ نُورِ باری حِجاب میں ہے
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے([1])
اَہْلِ مدینہ کو حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی آمد کی خبر ہو چکی تھی، کئی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم مُؤذِّنِ رَسُول سے ملنے کے لیے حاضِر ہوئے، سلام ، دُعا کے بعد سب نے کہا: بِلال! وہ اذان جو ہمارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو سُنایا کرتے تھے، آج پھر ایک بار وہ اذان سُنا دو۔ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ نے مَعْذَرت کی کہ اب اذان دے نہیں سکوں گا، پہلے جب اذان پڑھتا تھا، اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَّسُولُ اللہ کہتا تھا، سامنے چہرۂ وَالضُّحٰی کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami