Share this link via
Personality Websites!
کے لیے خواب میں تشریف لے آئے۔
پیارے آقا، دو عالم کے داتا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: مَا ہٰذِہِ الْجَفْوَۃُ یَابِلَالُ! اے بِلال...! یہ کیا بےوَفائی ہے؟ تُم نے ہماری زیارت کے لیے آنا ہی چھوڑ دیا...؟
اللہ! اللہ! پیارے آقا، مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمان سُنا، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی آنکھ کھلی، سُواری تیار کی اور سَفَرِ مدینہ پر روانہ ہو گئے۔
اللہ اَکْبَر! ایک عاشِقِ رَسُول مدینے کے سَفَر پر ہے، مکی آقا، مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے خُود بلایا ہے، حضرت بلال رَضِیَ اللہ عنہ کی کیفیت کیا ہو گی؟ یہ تو مَعْلُوم نہیں کیا جا سکتا، البتہ دِل ہی دِل میں حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی اُس وقت کی کیفیات کا تصور باندھنے کی کوشش کیجیے! *حضرت بلال رَضِیَ اللہ عنہ کیا سوچتے ہوں گے؟ ہاں! ہاں! جلد ہی میں مدینۂ پاک کی گلیوں میں پہنچ جاؤں گا *جلد ہی مسجد نبوی شریف نظر آئے گی *مدینۂ پاک کے خُوبصورت دَر و دِیوار ہوں گے *غریبوں کو پالنے والے آقا، دو جہاں کے داتا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے خُود بُلایا ہے، جلوہ بھی تو دکھائیں گے، دیدار کے جام بھی تو پِلائیں گے۔
ہے آرزُو یہ دِل کی، میں بھی مدینے جاؤں سلطانِ دوجہاں کو سب حالِ دِل دِکھاؤں
کاٹوں ہزار چکر طیبہ کی ہر گلی کے یُوں ہی گزار دُوں میں اَیَّام زِندگی کے
پھولوں پہ جاں نثاروں، کانٹوں پہ دِل کو وارُوں ذَرَّوں کو دُوں سلامی، دَر کی کروں غُلامی
دِیوار دَرْ کو چوموں، قدموں پہ سَر کو رَکھ دُوں محبوب سے لپٹ کر روتا رہوں برابر
اللہ! اللہ! سَفَر کرتے کرتے حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کو مدینہ مُنَوَّرہ کے دَر و دِیوار نظر آئے ہوں گے، یہ وہ لمحہ ہے، جب پیارے آقا، دو عالم کے داتا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سَفَر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami