Share this link via
Personality Websites!
کبھی بیمارِ محبت بھی ہوئے ہیں اچھے روز اَفْزُوں ہے مرض، کام دوا نے نہ دیا
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ فراقِ رسول میں زِندگی گزار رہے ہیں، اب بَس ایک ہی صُورت باقی ہے، دُکھ دَرْد مٹانے والے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کم از کم خواب میں ہی تشریف لے آئیں، چلو یُوں ہی اپنا جَلْوَہ دکھا دیں....
سامنے جَلْوہ گر پیکرِ نُور ہو، منکروں کا بھی سرکار شک دُور ہو
کر کے تبدیل اِک دِن لباسِ بشر، دونوں عالم کے سرکار آجائیے!
میرے گلشن کو اک بار مہکائیے، اپنے جلووں کی بارش میں نہلائیے!
دیدۂ شوق کو کیجئے بہرہ وَر، دونوں عالم کے سرکار آجائیے!
ایک رات جب حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ آرام فرما تھے، اس رات بھی نیند نہ جانے کیسے آگئی ہو گی، ورنہ محسوس یہی ہوتا ہے کہ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ یادِ مصطفےٰ کے چراغ جلائے راتیں گزارتے ہوں گے، دِل یہی کہتا ہے کہ شاید اُس رات بھی حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ بستر پر لیٹے یادِ مصطفےٰ میں مَصْرُوف رہے ہوں گے، کبھی مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی پیاری پیاری مسکراہٹ کو یاد کر کے مسکرا پڑتے ہوں گے، کبھی ہجر و فراق کو دیکھ کر رَو پڑتے ہوں گے، پھر نہ جانے کب آنکھ لگ گئی ہو گی۔
خالِدؔ میں صِرْف اتنا کہوں گا، جاگ اُٹھا اشکوں کا مقدر
عِشْقِ نبی میں روتے روتے کیسی کٹی ہے رات نہ پوچھو
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی آنکھیں بَند ہوئیں، قِسْمت جاگ اُٹھی، دِل کے سلطان آقا، مَحْبُوب آقا، دِل کا چین آقا، قرار آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے عاشِق کو دیدار کروانے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami