Share this link via
Personality Websites!
وضاحت: گلیاں سُونی سُونی دکھائی دیتی ہیں، گھر کھانے کو آتا ہے یعنی گھر میں بھی دِل نہیں لگتا، اے غُلام فرید! وہاں کیا جینا جہاں مَحْبُوب ہی نظر نہ آئے۔
اب مدینۂ پاک کی ان گلیوں میں زِندگی گزارنا دُشوار تھا، چنانچہ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ مُلْکِ شام تشریف لے گئے مگر آہ! حُضُور اقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تو یہاں بھی نہیں ہیں، دیدارِ حبیب کے جام تو یہاں بھی نہیں ملتے، یادِ مصطفےٰ تو یہاں بھی تڑپاتی ہے۔
حَکِیْمَاں طَبِیْبَاں دِے وَسْ دِی اَے گَلْ نَئَیں مِرِے رَوْگ دَا ہَوْر کِدھرے وِی حَل نَئَیں
تُوں آجَا وِکھا جا اَو صُورت پیاری
وضاحت:میں بیمارِ عشق ہوں ، میری بیماری کا علاج حکیموں یا ڈاکٹروں کے پاس نہیں۔یا رسول اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّممیرا علاج صرف آپ کی سوہنی سوہنی صورت کا دیدار ہے۔
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ ملکِ شام میں ہیں، یادِ مصطفےٰ یہاں بھی تڑپاتی ہے، ہجر و فراق سے سینہ یہاں بھی جَلْ رہا ہے۔ اللہ! اللہ! دِن کیسے گزرتے ہوں گے، راتیں کیسے بَسَر ہوتی ہوں گی...؟
وہ آ رہے ہیں، وہ آتے ہیں، آرہے ہوں گے شَبِ فراق یہ کہہ کر گزار دی ہم نے
پہلے جب رات کو سوتے تھے، ایک آس ہوتی تھی، ایک اُمِّید ہوتی تھی، صبح اُٹھنا ہے، مسجد نبوی شریف میں حاضِر ہونا ہے، اذان پڑھنی ہے، پھر مَحْبُوب آقا، پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تشریف لے آئیں گے، دیدار کے جام پینے کو ملیں گے، آہ! اب تو یہ آس بھی ختم ہو گئی، پہلے جب دِل کرتا تھا، حاضِر خِدْمت ہو کر لَذَّتِ دیدار سے سینہ ٹھنڈا کر لیتے تھے، ہائے افسوس! اب جائیں تو کہاں جائیں، اب مَحْبُوب کو کہاں تلاش کریں...؟
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami