Share this link via
Personality Websites!
مجھ کو خزانہ دے تَقویٰ کا یااللہ! مری جھولی بھر دے([1])
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی ایک ایمان افروز اذان
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی سیرتِ پاک میں ایک بہت ہی اِیْمان افروز اذان کا ذِکْر بھی ملتا ہے۔ اس اذان کا ذِکْرِ خیر سنیے اور اِیْمان تازہ کیجیے! روایت ہے: جب اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشِمی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دُنیا سے ظاہِری پردہ فرمایا، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم پر گویا قیامت ٹوٹ گئی تھی، صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم غم سے نڈھال ہو گئے تھے، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کو بھی وِصَالِ مصطفےٰ کا بہت صدمہ ہوا۔
حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ تو یُوں بھی مُؤذِّنِ رسول ہیں، مؤذِّن اور امام کا آپس میں جُدا قسم کا ہی تَعَلُّق ہوتا ہے،حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں رہا کرتے تھے، اب جب مَحْبُوب آقا، پیارے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے دُنیا سے ظاہری پردہ فرمایا، حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کے لیے جینا محال ہو گیا *وہ گلیاں جہاں حُضور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم چلا کرتے *اُن گلیوں سے گزرتے ہوئے حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کا کلیجہ منہ کو آتا ہے *جب حُضُور صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مسکراتے تو مدینۂ پاک کے در و دِیوار پر نُوْر کی شُعَائیں پڑا کرتی تھیں، اب ان دیواروں کو دیکھ دیکھ کر حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کو مَحْبُوب آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی یاد ستاتی ہے۔
گَلِیَاں سُنْجِیَاں دِسَّن مَیْنُوْں، وَیْڑا کَھَاوَن آوَے
غُلَامْ فَرِیْدَا! اُوْتھے کِی وَسْنا جتِّھے مَاہِی نَظَر نَہ آوَے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami