Share this link via
Personality Websites!
ہو گئے، قرآنِ کریم کی یہ آیتِ کریمہ اُتری، اللہ پاک نے فرمایا: ([1])
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ- (پارہ:26، سورۂ حجرات:13)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔
یعنی اے سردارانِ مکّہ...!! عزّت، شرف، بزرگی مال و دولت سے نہیں ملتی، نسبی تعلق سے نہیں ملتی، عزّت و شرف کی دولت اللہ پاک کے فضل سے ملتی ہے اور اسے ملتی ہے جو زیادہ تقویٰ اِخْتیار کرتا ہے۔ چونکہ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ تم سے زیادہ تقوے والے ہیں، سابِقُ الاسلام (شروع ہی میں اسلام قبول کرنے والے) ہیں، راہِ خُدا میں قربانیاں پیش فرمانے والے ہیں، لہٰذا کعبے کی چھت پر اذان دینے کا شرف انہی کو زَیْب دیتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی تقویٰ اپنا لینا چاہیے۔ تقویٰ کیا ہے؟ اللہ پاک سے ڈرنا، گُنَاہوں سے بچنا، نیکیوں میں زندگی گزارنا۔ یہ تقویٰ ہے۔ عُلَمائے کرام نے تقویٰ کی جو وضاحت اور تشریح لکھی ہے، اس کا خُلاصہ یہی نکلتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اللہ پاک سے ڈرنے والے بن جائیں، گُنَاہوں سے بچنے والے بن جائیں۔ حضرت ابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ عنہ روایت ہے، رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّمنے ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: عَلَیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہُ جِمَاعُ کُلِّ خَیْرٍ یعنی تم پر تقویٰ لازِم ہے کہ بے شک تقویٰ تمام بھلائیوں کا مجموعہ ہے۔([2])
دے حُسْنِ اَخْلاق کی دولت کر دے عطا اِخْلاص کی نعمت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami