Share this link via
Personality Websites!
کر دیا گیا ہے۔([1])
وُہی دُھوم اُن کی ہے ماشآءَ اللہ
مِٹ گئے آپ مِٹانے والے
ایک وَضَاحت سُن لیجیے! لَعَمْرِی (یعنی میری جان کی قسم) عَرَب کا مُحَاوَرہ تھا، یہ لوگ عموماً اس طرح بولتے تھے۔ حضرت جُوَیْرِیَہ چونکہ اس وقت تک مسلمان نہیں تھیں، اِس لیے انہیں مسئلہ مَعْلُوم نہیں تھا، ورنہ اللہ پاک کے عِلاوہ کسی کی بھی قسم کھانا جائِز نہیں ہے، مثلاً *مجھے میرے بچوں کی قسم* ماں کی قسم*میرے سر کی قسم*تیرے سر کی قسم! یہ سب انداز نَاجائِز ہیں۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! آپ ذرا تَصَوُّر باندھیے! وہ کیسا حَسِین، کیسا پیارا، نِرالا مَنْظَر ہو گا، مکّے کی وادِی ہے، محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم آن بان شان کے ساتھ کعبہ شریف کے رُو بَرُو موجُود ہیں، سب سردارانِ مکَّہ سَر جھکائے حاضِر ہیں اور حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کعبے کی چھت پر کھڑے ہوئے ہیں۔
جب مکّے کے بڑے بڑے سرداروں نے یہ مَنْظَر دیکھا تو ان کے کلیجے پگھل گئے، زمانۂ جاہلیت کا سارا غرور خاک میں مِل گیا۔ ذہنوں (Minds) میں خیال اُبھر رہے تھے کہ کل کا غُلام ، آج کعبے کی چھت پر اذان دے رہا ہے( یہ سَعَادت تو کسی اُونچے رُتبے والے کو ملنی چاہئے تھی)، اُن کے ذہنوں میں یہ وَسوسے آ ہی رہے تھے کہ حضرت جبریل علیہ السَّلام حاضِر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami