Share this link via
Personality Websites!
ہے، ورنہ حقیقت میں سب اللہ پاک کے بندے ہیں، سبھی حضرت آدم و حوا ء علیہما السلام کی اَوْلاد میں سے ہیں۔ عزّتوں کا معیار رنگ و نسل نہیں بلکہ اللہ پاک کی بارگاہ میں مقبولیت ہے، جو اللہ پاک کی بارگاہ کا مقبول ہو، جو دامنِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے لپٹ جائے، چاہے نسلی اعتبار سے حبشی ہی کیوں نہ ہو، اللہ و رسول اُسے ایسی عزّت سے نوازتے ہیں کہ بڑے بڑے سردار بھی اُن کی عظمت کو ٹوپی سنبھال کر، چہرے اُٹھا کر دیکھتے ہیں۔
دامنِ مصطفےٰ سے جو لپٹا یگانہ ہو گیا جس کے حُضُور ہو گئے، اس کا زمانہ ہو گیا
خیر! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کعبہ کی چھت پر چڑھے، اذان پڑھنا شروع کی۔ روایت کے الفاظ ہیں: جب آپ اذان پڑھتے پڑھتے
اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ
پر پہنچے تو آپ نے آواز مزید اُونچی کر دِی، روایت کے الفاظ ہیں:
وَرَفَعَ صَوْتَهُ كَأَشَدّ مَا يَكُونُ
یعنی حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ جتنا زَور لگا سکتے تھے، جتنی اُونچی آواز میں پڑھ سکتے تھے، اتنا زَور لگا کر پڑھا:
اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ
ابوجہل کی بیٹی حضرت جُوَیرِیَہ رَضِیَ اللہ عنہا جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا، انہوں نے جب مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا نامِ پاک کعبے کی چھت سے پُورے مکے میں گونجتا ہوا سُنا تو بولیں:
لَعَمْرِي رُفِعَ لَكَ ذِكْرُكَ
میری جان کی قسم...!! اے مُحَمَّد صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ کا ذِکْر آپ کے لیے بلند
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami