Share this link via
Personality Websites!
آلِہٖ وَسَلَّم کے جاں نثاروں یعنی صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم پر ظُلْم و سِتَم کے پہاڑ توڑے گئے تھے، وہ گھر، وہ محلے (Neighborhoods) جہاں مسلمانوں کا جینا دُشْوار ہو گیا تھا، 9 ہجری (یعنی ہجرتِ مدینہ سے 9 سال بعد) پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ان گلیوں، ان محلوں، اس شہرِ مکہ میں فاتِح بن کر تشریف لائے، اس پاکیزہ شہر کو شرک کی گندگی سے پاک کر دیا گیا، کعبہ مبارَک جسے زمانۂ جاہلیت میں شِرْک سے آلُودہ کر دیا گیا تھا، ایک بار پِھر اسے مرکزِ تَوْحِیْد بنا دیا گیا، اس موقع پر مکّہ کے بڑے بڑے سردار موجود تھے۔ یُوں کہہ لیجیے کہ سارے مکّے والوں کی نگاہیں ہی پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی جانِب لگی ہوئی تھیں۔ اتنے میں ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا۔
اب پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنے سچّے عاشِق حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کو وہ شرف، وہ عظمت بخشی جو نہ اس سےپہلے کسی کو نصیب ہوئی تھی، نہ آپ کے بعد کسی کو نصیب ہوئی۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اے بِلال...!! آج (کعبے کے سامنے کھڑے ہو کر نہیں بلکہ) کعبے کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان پڑھو...!!
سُبْحٰنَ اللہ!کیا شانِ کریمی ہے، وہ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ *جنہیں اسی شہرِ مکہ میں غُلامی کی زنجیروں میں جکڑا گیا تھا *جنہیں اسی مکّہ شریف میں تپتی ریت پر لٹا کر اُوپَر بھاری پتھر رکھ دئیے جاتے تھے*جن پر مکّے کی گلیوں میں پتھر برسائے جاتے تھے، وہی حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ...!! آج کعبے کی چھت پر چڑھ چکے ہیں۔
یہ گویا تمام سردارانِ مکّہ کو ایک خاموش پیغام تھا کہ اے غیر مسلم سردارو...!! دیکھ لَو! عزّت اللہ پاک کے ہاتھ ہے، یہ غُلامی اور آزادی، حبشی و رُومی کا فرق یہ تمہارا اَپنا بنایا ہوا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami