Share this link via
Personality Websites!
سُبْحٰنَ اللہ! یہ مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے معجزہ نُما ہاتھوں کی برکت تھی کہ میرے دِل میں جو اسلام اور مسلمانوں کی نفرت تھی، سب اسی وقت ختم ہو گئی اور میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔ فرماتے ہیں: کلمہ پڑھنے کے بعد میں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم مجھے مکّہ کا مؤذِّن مُقَرَّر فرما دیجیے! آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے میری درخواست قبول فرمائی اور مجھے حرمِ مکّہ کا مؤذِّن بنا دیا۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! پیارے اسلامی بھائیو! کہتے ہیں نا کہ اچھوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔ حضرت ابومَحْذُورَہ رَضِیَ اللہ عنہ کو اسی نقل کا فیضان مِل گیا۔ آپ نے اگرچہ دِلی نفرت کے سبب نقل اُتاری تھی مگر نقل تو محبوبِ خُدا اور محبوبِ مصطفےٰ حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی اُتار رہے تھے، بَس اِسی نقل اُتارنے نے پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تَوَجُّہ مبارَک کو اپنی جانِب کر لیا۔ پِھر کیا کیا برکات ملیں...! سُبْحٰنَ اللہ! پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شفقتیں بھی نصیب ہوئیں، ہاتھ مبارَک کی برکتیں بھی ملیں، اِیْمان بھی مِلا اور حرمِ مکّہ کا مؤذِّن بن جانے کی سعادت بھی نصیب ہو گئی۔
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت بِلال رَضِیَ اللہ عنہ کی اذانوں کی نِرالی شان ہے۔ آپ نے ایک ایسی اذان بھی پڑھی ہے کہ ایسی اذان پڑھنے کا شرف آپ کے سِوا کسی کو نہیں مِل سکا۔ روایات میں ہے: فتح مکّہ کا موقع تھا، وہ شہر جہاں سے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ہجرت کر کے تشریف لے گئے تھے، وہ گلیاں جہاں آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami